مشرق وسطیٰ کا بڑھتا بحران شام تک پھیلنے کا خدشہ، یو این خصوصی نمائندہ
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے نتیجے میں ملک کے جنگ کا شکار ہونے کا سنجیدہ خطرہ موجود ہے جس پر قابو پانے کے لیے تناؤ میں کمی لانا اور غزہ میں جنگ بندی ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں سرکاری فوج اور حکومت کے حامی مسلح گروہ دہشت تنظیموں حیات تحریر الشام اور داعش کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اس لڑائی میں بھاری ہتھیاروں، ڈرون طیاروں اور نشانہ بازوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک گاڑی کو حملے کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر خطے کا تنازع مزید پھیلا تو شام کے عوام بھی اس کی گرفت میں آ جائیں گے۔ ملک کو اس وقت گہری تقسیم اور تنازع کا سامنا ہے جہاں بہت سے علاقوں پر ریاستی اختیار ختم ہو چکا ہے۔ ان حالات میں غزہ کی جنگ سے جنم لینے والے علاقائی بحران کے شام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
جیئر پیڈرسن نے خبردار کیا کہ عسکری اور علاقائی اختلافات کے علاوہ شام کا معاشرہ بھی تقسیم کا شکار ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ شام کے تنازع کو حل کرنے کے لیے تمام سیاسی فریقین اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
بڑھتا انسانی بحران
جیئر پیڈرسن نے کہا کہ شام کو شدید نوعیت کے انسانی بحران کا سامنا ہے جہاں عام شہری اور بالخصوص بچے غیرمعمولی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔
خصوصی نمائندے نے خبردار کیا کہ ملک میں امدادی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ اس مقصد کے لیے وسائل کا فقدان ہے۔ رواں سال ملک کے لیے چار ارب ڈالر کے امدادی وسائل کی اپیل کی گئی ہے لیکن اب تک اس میں سے 25 فیصد ہی مہیا ہو پائے ہیں۔
کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے امدادی دفتر میں رابطوں کے شعبے کے ڈائریکٹر رمیش راجاسنہم نے بتایا کہ ملک میں ایک کروڑ 60 لاکھ لوگوں کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے اور ان میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔
مایوسی اور ضروریات کے باعث لوگ لڑکوں کو چھوٹی عمر میں کام پر بھیجنے اور لڑکیوں کی نوعمری میں شادی جیسے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ بچوں کو جنسی تشدد اور دیگر بدسلوکی کا سامنا بھی ہے۔ ان میں ایسے بچے نمایاں ہیں جو اپنے خاندان سے بچھڑ جانے کے بعد پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مقیم ہیں۔
سیاسی عمل پر زور
جیئر پیڈرسن نے کہا کہ وہ ان تلخ حقائق کے ہوتے ہوئے بہتر مستقبل کی راہ تلاش کرنا جاری رکھیں گے۔
بہت جلد وہ شام کے وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے اور آئندہ ہفتے ملک کے مذاکراتی کمیشن کے سربراہ سے نیویارک میں ملیں گے۔ اس کے علاوہ مسئلے کے دیگر فریقین اور عطیہ دہندہ ممالک کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام سیاسی عمل کو تین اہم محاذوں پر آگے بڑھایا جانا ضروری ہے۔ ان میں دستوری کمیٹی کے مسئلے پر بات چیت کی تجدید، اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات اور تمام فریقین کے فائدے کے لیے نئے طریقہ ہائے کار وضع کرنا شامل ہیں۔