افریقہ میں ایم پاکس کی روک تھام کے لیے 59 ملین ڈالر درکار، یونیسف
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے افریقہ کے چھ ممالک میں ایم پاکس کے تیز تر پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 59 ملین ڈالر مہیا کرنے کی ہنگامی اپیل کی ہے۔ ان ممالک میں برونڈی بھی شامل ہے جہاں چھوٹے بچوں کی بڑی تعداد اس بیماری سے متاثر ہوئی ہے۔
جنوبی اور مشرقی افریقہ کے لیے یونیسف کے علاقائی طبی مشیر ڈاکٹر پال اینگاکم نے کہا ہے کہ برونڈی میں سامنے آنے والے ایم پاکس کے 600 مصدقہ مریضوں میں دو تہائی کی عمر 19 سال سے کم ہے۔ ملک میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جہاں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اس کے مریضوں کی تعداد میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
ملک میں اس بیماری کے 14 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریض موجود ہیں لیکن وہاں اس سے تاحال کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ تاہم، ہمسایہ ملک جمہوریہ کانگو میں ایم پاکس کے 21,900 مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں اور اب تک 717 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مالی وسائل کی فراہمی اور فوری اقدامات کی بدولت اس وبا پر مختصر وقت میں قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے یہ ایک محدود علاقہ ہے اور تمام شراکت داروں کی مرتکز کوششوں کے ذریعے ایم پاکس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل نہیں۔
سکولوں میں حفاظتی اقدامات
یونیسف نے برونڈی میں نیا تعلیمی سال شروع ہونے کے موقع پر بچوں میں ایم پاکس کے پھیلاؤ کو تشویشناک قرر دیا ہے۔ جمہوریہ کانگو میں اب تک سامنے والے مریضوں کی 30 فیصد تعداد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہے۔
ادارے نے اساتذہ اور والدین کو اس بیماری سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہی دینے اور تعلیم میں خلل کو روکنے کے لیے حکام کو سکولوں میں طبی اقدامات پر عملدرآمد، ایم پاکس کی ابتدائی علامات کو پہچاننے کے لیے عملے کی تربیت اور ہاتھوں کو صاف ستھرا رکھنے سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔
یونیسف کے طلب کردہ امدادی وسائل سے والدین اور نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں کو ذہنی صحت کے حوالے سے بھی مدد دی جائے گی جنہیں بعض علاقوں میں کام کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی مخالفت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایم پاکس کو عام طور پر جنسی عمل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جبکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کا یہ واحد یا بڑا سبب نہیں ہے۔
بیماری اور بدنامی
ڈاکٹر اینگاکم کا کہنا ہے کہ افریقہ میں جنسی عمل کے بارے میں کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ اگر کسی کے بارے میں یہ سامنے آئے کہ اسے جنسی طور پر منتقل ہونے والی کوئی بیماری لاحق ہے تو وہ فرد بدنام ہو جاتا ہے۔ طبی کارکن لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایم پاکس محض جنسی عمل سے لاحق نہیں ہوتا۔ بہت سے بچوں کو متاثرہ افراد کو چھونے، جانوروں کو ہاتھ لگانے یا ایم پاکس سے آلودہ جگہوں سے مَس ہونے پر بھی یہ بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لوگ ایبولا اور کووڈ۔19 جیسی وباؤں کے دوبارہ ظہور کے خدشات کو لے کر بھی خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیسف اور اس کے شراکت دار مفروضوں کا ابطال کرنے اور لوگوں میں خوف کی فضا کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس کا کہنا ہے کہ برونڈی سے برعکس جمہوری کانگو میں ایم پاکس سے بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کا بنیادی سبب ملک کے مشرقی علاقے میں طویل عرصہ سے جاری انسانی بحران ہے جمہوریہ کانگو میں بہت سے بچے غذائی قلت کے باعث جسمانی قوت مدافعت کی کمزوری کا شکار ہیں جس کے باعث انہیں ایم پاکس جیسی بیماریوں سے لاحق خطرات بھی دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔