انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: مصنوعی ذہانت پر مبنی سمارٹ فارمنگ سے ’وسائل کی بچت‘

مٹی کے بغیر پودے اگانے کی ٹیکنالوجی کے ذریعے  زراعت میں 90 فیصد تک پانی اور 25 فیصد تک کھادوں کی بچت ہو سکتی ہے۔
FAO-Pakistan
مٹی کے بغیر پودے اگانے کی ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت میں 90 فیصد تک پانی اور 25 فیصد تک کھادوں کی بچت ہو سکتی ہے۔

پاکستان: مصنوعی ذہانت پر مبنی سمارٹ فارمنگ سے ’وسائل کی بچت‘

رپورٹ: محمد فیصل (پاکستان)
معاشی ترقی

پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمارٹ فارمنگ کا ایسا نمونہ تیار کیا گیا ہے جس سے پانی اور کھادوں کی بچت کرتے ہوئے کم رقبے پر بڑی فصل اگا کر بہت سے زرعی و ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مٹی اور کھاد کے بغیر پانی میں پودے اگانے کی یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر شہری علاقوں میں زراعت کے فروغ میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کی بدولت زراعت میں 90 فیصد تک پانی اور 25 فیصد تک کھادوں کی بچت ممکن ہے اور روایتی کھیتی باڑی میں کئی مقاصد کے لیے نقل و حمل سے ہونے والے کاربن کے اخراج پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی اقرا یونیورسٹی کراچی میں شعبہ انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کے سائنس دان ڈاکٹر منصور ابراہیم کے زیرقیادت ٹیم نے تیار کی ہے جس کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر کامران رضا اور ڈاکٹر حسن عادل شامل ہیں۔

اقرا یونیورسٹی پاکستان میں اقوام متحدہ کے پروگرام 'یونائیٹڈ نیشنز اکیڈیمک امپیکٹ' سے وابستہ تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ تعلیم تک رسائی بڑھانا، معاشی و سماجی استحکام، حقوق کا فروغ و تحفظ اور تنازعات کا خاتمہ اس پروگرام کے بنیادی مقاصد ہیں۔

سمارٹ فارمنگ پاکستان میں روایتی زراعت کو درپیش بہت سے مسائل کا موثر حل بھی پیش کرتی ہے۔
Shoaib Tariq
سمارٹ فارمنگ پاکستان میں روایتی زراعت کو درپیش بہت سے مسائل کا موثر حل بھی پیش کرتی ہے۔

'خودکار' زراعت

ڈاکٹر منصور ابراہیم نے یو این نیوز کو بتایا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد مٹی اور کھاد کے بغیر ریت، کنکر اور پانی میں پودے اگانے کے طریقے (ہائیڈروپونکِس) کی بنیاد پر ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جس میں سینسر، سافٹ ویئر اور ایسی دیگر چیزوں اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ سے پودوں کی نمو کے لیے موثر، پابند اور خودمختار ماحول تخلیق کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہائیڈروپونکس طریقہ کار میں پودوں کو مٹی کے بغیر ایسے پانی میں اگایا جاتا ہے جس میں ان کی بڑھوتری کے لیے درکار عناصر وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

اس طریقہ کار میں سینسر، سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے ذریعے فصل کی بڑھوتری کے ہر مرحلے کو جانچا جاتا ہے اور اس سارے عمل کو سمارٹ فون پر ایک ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

سینسر پودوں کی بڑھوتری کو مطلوبہ حالت میں برقرار رکھنے کے لیے انہیں دیے جانے والے مداخل اور پیداوار کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر بنائے گئے ایک نطام کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا ہے جسے اس مقصد کے لیے پودوں کی کیمرے اور ڈرون سے مخصوص وقت میں لی گئی تصاویر اور مختلف مراحل میں ان کی نمو سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کا نظام فصل کی حالت کے بارے میں درست آگاہی دیتا ہے۔

ڈاکٹر منصور ابراہیم اقرا یونیورسٹی کراچی میں ہائیڈروپونکس کی بنیاد پر سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجی تیار کرنے کے منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔
Iqra University
ڈاکٹر منصور ابراہیم اقرا یونیورسٹی کراچی میں ہائیڈروپونکس کی بنیاد پر سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجی تیار کرنے کے منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔

زرعی، غذائی اور ماحولیاتی تحفظ

ترقی پذیر ممالک میں معاشی ترقی، غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع کھولنے اور غربت کو کم کرنے میں زرعی شعبے کا کردار ناگزیر ہے۔

پاکستان کا شمار بھی انہی ممالک میں ہوتا ہے جہاں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زرعی شعبے کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے اور ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کسی نہ کسی طور اسی شعبے سے وابستہ ہے۔

تاہم بہت سے عوامل کے باعث ملک میں زرعی پیداوار مستحکم نہیں رہتی۔ ان میں قابل کاشت رقبے میں ہوتی کمی، تیزرفتار موسمیاتی تبدیلی، دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی اور سب سے بڑھ کر پانی کی قلت اور اس کا کھاری ہونا خاص طور پر نمایاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق، پاکستان میں استعمال ہونے والے مجموعی پانی کا 90 فیصد سے زیادہ زرعی شعبے کو جاتا ہے لیکن آبپاشی کے ناقص انتظام کے باعث اس کی 60 فیصد مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کسان زیرزمین پانی استعمال کرتے ہیں جو بہت سے علاقوں میں کھاری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں زرخیز زمینیں سیم اور تھور کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو ملک کو آئندہ برسوں میں 70 ملین ٹن خوراک کی قلت کا سامنا ہو گا۔

منصور ابراہیم نے بتایا کہ سمارٹ فارمنگ پاکستان کو درپیش (متذکرہ بالا) چاروں بڑے مسائل مسائل کا مقامی ماحول اور حالات کی مطابقت سے پائیدار حل پیش کرتی ہے۔ ملک میں سمارٹ فارمنگ کو قومی سطح پر بھی تسلیم کر لیا گیا ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اس ٹیکنالوجی پر تحقیق کے لیے تعلیمی اداروں کو مالی وسائل بھی مہیا کر رہا ہے۔

پاکستان میں آبپاشی کے ناقص انتظام کے باعث بڑی مقدار میں ضائع ہونے والے پانی کو سمارٹ فارمنگ کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔
Shoaib Tariq
پاکستان میں آبپاشی کے ناقص انتظام کے باعث بڑی مقدار میں ضائع ہونے والے پانی کو سمارٹ فارمنگ کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔

کاشتکاری کا انقلابی تصور

ان کا کہنا ہے کہ اقرا یونیورسٹی کے زیراہتمام اس مںصوبے کے پہلے مرحلے میں سبزیاں اگانے کے لیے یہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جس کے امید افزا نتائج آئے ہیں۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمارٹ فارمنگ پاکستان میں قابل عمل اور ماحولیاتی اعتبار سے ایک مفید متبادل ہے۔

سمارٹ فارمنگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کی بدولت کام کے وقت اور زرعی رقبے کی بچت ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ شہری علاقوں میں زراعت کے لیے بہت سے امکانات کی حامل ہے۔

منصور ابراہیم کہتے ہیں کہ کسی فصل کی نمو کے مختلف مراحل کو بالکل درست طور سے جانچنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو مزید بہت سی معلومات درکار ہیں۔ اس وقت تک پاکستان میں یہ منصوبہ مشین اور انسان کی ایک مشترکہ کوشش رہے گا۔ تاہم موجودہ شکل میں بھی اسے بڑے پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے جو صرف شہری علاقوں میں زراعت کے فروغ میں مددگار ہو گا بلکہ روایتی کاشتکاری کے تصور کو بھی بدل دے گا۔