انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایف اے او کا پاکستان میں موسمیاتی پیشنگوئی کا نظام جدید کرنے کا منصوبہ

'ایف اے او' درست موسمیاتی معلومات کے حصول اور تجزیے کے لیے جنوبی پنجاب اور سندھ میں 3 ایڈی کوویریئنس فلکس ٹاور نصب کرے گا۔
FAO-Pakistan
'ایف اے او' درست موسمیاتی معلومات کے حصول اور تجزیے کے لیے جنوبی پنجاب اور سندھ میں 3 ایڈی کوویریئنس فلکس ٹاور نصب کرے گا۔

ایف اے او کا پاکستان میں موسمیاتی پیشنگوئی کا نظام جدید کرنے کا منصوبہ

رپورٹ: محمد فیصل (پاکستان)
موسم اور ماحول

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) پاکستان میں جنوبی پنجاب اور سندھ کے 24 اضلاع میں موسمیاتی پیشنگوئی کے جدید نظام کو وسعت دے رہا ہے جس کی بدولت سیلاب اور خشک سالی سے بروقت آگاہی، آبپاشی کی بہتر منصوبہ بندی اور زرعی پیداوار کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

اقوام متحدہ کے قائم کردہ 'گرین کلائمیٹ فنڈ' (جی سی ایف) کی مالی معاونت سے اس منصوبے کے تحت جنوبی پنجاب کے 15 اور جنوب مشرقی سندھ کے 9 اضلاع میں موسمیاتی مراکز (ویدر سٹیشن) اور فلکس ٹاور قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان سے موسم کے بارے میں پیشگی اور درست ترین معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

وسیع علاقے پر بڑی تعداد میں پھیلے ان مراکز کی موجودگی میں مقامی آبادی کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور ان سے ہونے والے نقصان کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں، اس منصوبے کے تحت پانی کے انتظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا، بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جائے گی اور زرعی شعبے کی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی پنجاب اور جنوب مشرقی سندھ میں لوگوں کو بہت سے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔
Shoaib Tariq
موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی پنجاب اور جنوب مشرقی سندھ میں لوگوں کو بہت سے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور زرعی تحفظ

موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہروں، تندوتیز بارشوں اور پانی کی قلت کے نتیجے میں ان علاقوں کی زرعی پیداوار میں کمی آنے لگی ہے اور کسانوں کا معاشی نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کے اوقات، دورانیے اور شدت میں آنے والی تبدیلیاں اس کا بنیادی سبب ہیں۔

2022 میں آنے والے سیلاب نے ان دونوں علاقوں میں زرعی اراضی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس کے بعد یہاں پالیسی سازوں اور کسانوں کے لیے آنے والے موسم سے بروقت آگاہی کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔

پاکستان میں 'ایف اے او' کی اعلیٰ سطحی تکنیکی مشیر ایملڈا بیریجینا کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب اور جنوب مشرقی سندھ میں موسمیاتی اطلاعات دینے کا نظام فی الوقت 50 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی میں سے صرف 12 لاکھ ہیکٹر کا احاطہ کرتا ہے۔ چنانچہ موسمیاتی صورتحال سے بروقت آگاہی نہ ہونے کے باعث قدرتی آفات بہت بڑے رقبے کو متاثر کرتی ہیں۔

آنے والے موسم کی پیشگی اطلاعات کے حصول سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں اہم فیصلے لینے اور موثر حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔
FAO-Pakistan
آنے والے موسم کی پیشگی اطلاعات کے حصول سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں اہم فیصلے لینے اور موثر حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔

یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 'جی سی ایف' کے تعاون سے اس نظام کو پورے علاقے پر پھیلانے کے لیے پنجاب کے 15 اور سندھ کے 9 اضلاع میں ایڈی کوویریئنس فلکس ٹاور (Eddy Covariance Flux Towers) نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ جنوبی پنجاب میں 15 موسمیاتی مراکز (ویدر سٹیشن) اور 2 فلکس ٹاور قائم کرنے سے 85 فیصد علاقے میں موسم کی خبر ملے گی۔ اسی طرح جنوب مشرقی سندھ میں 9 مراکز اور ایک فلکس ٹاور نصب کیا جا رہا ہے۔

ایملڈا بیریجینا نے مزید بتایا کہ اس نظام کو وسعت دیے جانے سے فضائی صورتحال انتہائی واضح ہو کر سامنے آئے گی اور تفصیلی و درست موسمیاتی پیشگوئی ممکن ہو سکے گی۔ اس طرح، آبی بخارات کی ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی، پانی کے حساب کتاب اور آبپاشی کی منصوبہ بندی کے علاوہ سیلاب اور خشک سالی کا بروقت اندازہ ہو سکے گا۔

مقامی سطح پر موسمیاتی جانکاری

جغرافیائی اعتبار سے متنوع اور منفرد موسمیاتی خصوصیات والے علاقوں کے لیے ایسی تفصیلی معلومات اور بھی اہمیت رکھتی ہیں جن کی مدد سے ان علاقوں کی مخصوص موسمیاتی کیفیت کو سمجھنا اور ان کے مطابق نپی تلی پیش گوئی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

بہت سے مقامات پر ان موسمیاتی مراکز کے قیام سے مقامی سطح پر موسم میں آنے والی ایسی تبدیلیوں کی نشاندہی بھی ہو سکے گی جن کی اب تک ان مراکز کی محدود تعداد کے باعث بروقت نشاندہی نہیں ہو سکتی تھی۔ ہر علاقے کی اپنی موسمیاتی کیفیت کے بارے میں درست اور تفصیلی معلومات کی موجودگی زراعت اور پانی کے وسائل کے انتظام کو بہت زیادہ فائدہ دے گی اور اس حوالے سے درست فیصلے یقینی بنائے جا سکیں گے۔

کسان دوست اقدام

'ایف اے او' پاکستان کے موسمیاتی ادارے (پی ایم ڈی) کے اشتراک سے موسم کے بارے میں پیشگی اطلاعات کی فراہمی کا نظام بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد آنے والے موسم کے بارے میں ایسی قابل عمل آگاہی حاصل کرنا ہے جو پالیسی سازوں اور زراعت پیشہ لوگوں کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔

'ایف اے او' درست موسمیاتی معلومات کے حصول اور تجزیے کے لیے جنوبی پنجاب اور سندھ میں 3 ایڈی کوویریئنس فلکس ٹاور نصب کرے گا۔
FAO-Pakistan
'ایف اے او' درست موسمیاتی معلومات کے حصول اور تجزیے کے لیے جنوبی پنجاب اور سندھ میں 3 ایڈی کوویریئنس فلکس ٹاور نصب کرے گا۔

اس سے پالیسی سازوں کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے اہم فیصلے لینے اور حکمت عملی بنانے کے لیے بروقت اور بامقصد معلومات میسر آئیں گی۔ اس طرح ان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے کے لیے مزید موثر پالیسیاں ترتیب دینے اور حسب ضرورت وسائل مختص کرنا بھی ممکن ہو گا۔

ایملڈا بیریجینا کا کہنا ہے کہ، موسم کے بارے میں پیشگی اطلاعات میسر ہونے کی صورت میں کسان اپنے کھیتوں اور فصلوں کو مزید بہتر تحفظ دے سکیں گے۔ جب انہیں آئندہ موسم کے بارے میں تمام تفصیلات کا پیشگی علم ہو گا تو وہ آبپاشی کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گے، اپنی فصلوں کو شدید موسمی واقعات سے بچانے کا اہتمام کر سکیں گے اور کھیتی باڑی کے طریقوں کو بدلتے موسمیاتی حالات کے مطابق ڈھال لیں گے۔