پاکستان: پولیو متاثرین میں اضافہ پر ڈبلیو ایچ او کو گہری تشویش
پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ میں دوبارہ شدت آ گئی ہے جہاں اس سال ملک میں اس بیماری کے 16 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سے پولیو وائرس دنیا کے دیگر ممالک میں منتقل ہونے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔
امسال بلوچستان پولیو سے متاثر ہونے والا ملک سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں اب تک 12 بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کی سربراہی میں ادارے کی ایمرجنسی کمیٹی برائے پولیو کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ 2023 کی دوسری ششماہی کے آغاز سے پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی 1) کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
8 جولائی کو جنیوا میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کوئٹہ اور گردونواح کے اضلاع، خیبرپختونخوا میں پشاور سمیت جنوبی اضلاع اور صوبہ سندھ میں کراچی و ملحقہ اضلاع میں پولیو کے وبائی صورت اختیار کرنے کا خطرہ موجود ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں کو لاحق تحفظ اور رسائی کے مسائل اور ویکسین کا بائیکاٹ اس مرض کے انسداد میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
62 اضلاع پولیو سے متاثر
پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کے مطابق، ملک میں پولیو کا تازہ ترین کیس اگست کے اواخر میں صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں سامنے آیا جہاں 29 سالہ بچی اس وائرس سے متاثر ہوئی ہے۔ اس سال صوبے میں مجموعی طور پر تین بچے پولیو کا شکار ہوئے ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔ تاحال خیبرپختونخوا میں کسی فرد کے اس بیماری سے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں آئی۔
22 جولائی تک ملک کے 62 اضلاع سے حاصل کردہ 266 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
صوبہ سندھ کے 114، بلوچستان کے 93، خیبر پختونخوا کے 31 اور پنجاب کے 22 ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی نشاندہی ہوئی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پانچ اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے لیے گئے ایک ماحولیاتی نمونے میں یہ وائرس ملا ہے۔
اس وقت دنیا میں پاکستان اور افغانستان ہی ایسے ملک ہیں جہاں یہ مرض موجود ہے۔ کسی ملک کو اسی وقت پولیو سے پاک قرار دیا جاتا ہے جب وہاں تین سال تک اس بیماری کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آئے۔
پاکستان میں گزشتہ سال پولیو کے 6 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ 2022 میں یہ تعداد 20، 2021 میں ایک اور 2020 میں 84 تھی۔
بلوچستان: پولیو وائرس کا گڑھ
رواں سال صوبہ بلوچستان کے 20 اضلاع میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں پانچ بچے پولیو سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ دیگر کیس کوئٹہ شہر، چمن، ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور خاران میں سامنے آئے ہیں۔ رواں سال صوبے میں پولیو سے متاثرہ تین بچوں کی موت ہو چکی ہے۔
صوبے میں انسداد پولیو کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جعلی ویکسینیشن کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں پولیو ٹیموں نے ویکسین لینے والوں میں ایسے بچوں کا اندراج بھی کیا جنہیں پولیو کے قطرے پلائے ہی نہیں گئے تھے۔ ایسے واقعات ان والدین کی ملی بھگت سے ہوئے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری تھے۔ 'ای او سی' نے کہا ہے کہ پولیو مہم سے وابستہ ایسے 500 سے زیادہ اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔
'ای او سی' کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے پولیو ٹیموں کے لیے سلامتی کے مسائل میں غیرمعمولی اضافہ، رسائی کے مسائل، والدین کا بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر غیر روایتی راستوں سے آمدورفت وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
بین الاقوامی خطرہ
'ڈبلیو ایچ او' کی ایمرجنسی کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے جن علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں ایسی جگہیں سرفہرست ہیں جہاں مختلف وجوہات کی بنا پر پولیو مہم موثر طور سے نہیں چلائی جا سکی۔
کوئٹہ، پشاور اور کراچی ریجن میں پولیو وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ملک میں انسداد پولیو کے لیے گزشتہ دو سال میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
کمیٹی کے مطابق، ملک میں پولیو کی موجودہ صورتحال دیگر ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے راستے پاکستان سے واپسی کے باعث یہ وائرس افغانستان اور وہاں سے دیگر ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔