انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش سیلاب: بیس لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ، یونیسف

اس سال مئی میں سمندری طوفان ریمل نے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچائی تھی۔
© UNICEF/Salahuddin Ahmed Paulash/Drik
اس سال مئی میں سمندری طوفان ریمل نے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچائی تھی۔

بنگلہ دیش سیلاب: بیس لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ، یونیسف

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیلاب کے باعث 20 لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں جہاں پانی دیہات، لوگوں کے گھروں اور سکولوں کو بہا لے گیا ہے۔

یونیسف نے کہا ہے کہ یہ سیلاب موسمی شدت کے واقعات سے انسانی آبادیوں پر مرتب ہونے والے متواتر اثرات اور بچوں کو درپیش موسمیاتی بحران کی المناک یاد دہانی ہے۔

مشرقی بنگلہ دیش میں آنے والے سیلاب میں مجموعی طور پر 56 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ 34 سال کے بعد ملک کے ان علاقوں میں آنے والا بدترین سیلاب ہے۔

پانچ لاکھ افراد بے گھر

اطلاعات کے مطابق، مون سون کی غیرمعمولی طور پر شدید بارشوں کے نتیجے میں ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں بیشتر دریاؤں میں طغیانی ہے جس میں اب تک 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جان بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

بنگلہ دیش کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بانسوں کی کشتیاں بنائی ہوئی ہیں۔
© UNICEF/Salahuddin Ahmed Paulash

چٹوگرام اور سلہٹ ڈویژن میں لوگوں کے گھر اور کھیت سیلاب برد ہو گئے ہیں۔ لاکھوں بچے اور ان کے خاندان بے یارومددگار ہیں جنہیں خوراک اور بنیادی ضرورت کی چیزیں میسر نہیں رہیں۔ سرکاری اہلکار اور رضاکار لوگوں کو تحفظ اور مدد کی فراہمی میں مصروف ہیں تاہم بعض جگہوں پر رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے۔

موسمی پیش گوئی کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید لوگوں کو سیلاب کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ مون سون کا موسم تاحال جاری ہے۔

امدادی وسائل کی ضرورت

بنگلہ دیش میں یونیسف کی نمائندہ ایما بریگھم نے کہا ہے کہ سیلاب میں بہت سے بچوں نے اپنے عزیزوں، گھروں اور سکولوں کو کھو دیا ہے اور اب وہ ہر طرح سے بے سہارا ہیں۔

ان لوگوں کو پانی صاف کرنے کی گولیاں، جسم میں نمکیات کی کمی دور کرنے والا نمک اور دیگر ضروری چیزیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ لیکن لاکھوں بچوں کے مستقبل کو اس قدرتی آفت کے طویل مدتی تباہ کن اثرات سے تحفظ دینے کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہے۔

یونیسف نے اب تک ایک لاکھ 30 ہزار بچوں سمیت تین لاکھ 38 ہزار سیلاب متاثرین کو انسانی امداد فراہم کی ہے۔