طالبان کا ’اخلاقی قانون‘ انسانیت کے خلاف جرم، انسانی حقوق ماہرین
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے افغانستان میں طالبان حکمرانوں کی جانب سے لاگو کیے گئے نئے 'اخلاقی قانون' پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں حقوق کی صورتحال میں مزید بگاڑ آئے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 'امر بالمعروف و نہی عن المنکر' کے نام سے جاری کردہ اس قانون سے لوگوں کی زندگیوں پر طالبان کی جابرانہ گرفت مزید مضبوط ہو جائے گی۔
نئے قانون میں لباس سے متعلق لازمی ضوابط کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور خواتین کے لیے مرد سرپرست (محرم) کے بغیر عوامی مقامات پر آنا ممنوع قرار پایا ہے۔ لڑکیوں اور خواتین کے اپنے گھروں سے باہر بلند آواز میں بات کرنے یا گانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ مردوں اور لڑکوں کے ظاہری حلیے سے متعلق بھی سخت ضابطے نافذ کیے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت میں متعارف کرائے گئے قوانین سے مشابہ ہیں اور ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد معتدل سوچ نہیں اپنائی۔ اس قانون کے ذریعے تفریق اور جبر کے نظام کو باقاعدہ صورت دی گئی ہے اور یہ سب کچھ انسانیت کے خلاف جرائم اور صنفی بنیاد پر ظلم کے مترادف ہے۔
اظہار اور اطلاعات پر پابندی
نئے قانون کے تحت ایل جی بی ٹی کیو آئی+ افراد کے ساتھ مجرموں والا برتاؤ ہو گا۔ اس میں اقلیتوں کے حقوق پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہیں 'غیراسلامی' تقریبات کے انعقاد سے روک دیا گیا ہے اور لوگوں کا غیرمسلم افراد کے ساتھ میل جول بھی ممنوع قرار پایا ہے۔
اس قانون میں آزادی اظہار پر بھی کڑی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں جن میں طالبان کی مذہبی سوچ سے متضاد مواد کی اشاعت پر پابندی بھی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے صحافتی آزادی مزید محدود ہو جائے گی، صحافیوں کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے، غیرجانبدارانہ رپورٹنگ ختم ہو جائے گی اور ناصرف بیرون ملک سے بلکہ اندرون ملک بھی اطلاعات کی فراہمی محدود رہ جائے گی۔
پولیس کے 'وسیع تر' اختیارات
طالبان حکمرانوں نے اخلاقی قوانین کی نگرانی کے لیے خصوصی پولیس کو جامع اختیارات سونپے ہیں جو لوگوں کو جب چاہے گرفتار کر کے جسمانی سزا بھی دے سکے گی۔ اس مقصد کے لیے پولیس کو کسی ثبوت یا قانونی کارروائی کی ضرورت نہیں ہو گی اور عام لوگوں سے کہا گیا ہے کہ جب وہ کسی کو ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا دیکھیں تو حکام کو اطلاع دیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پولیس کو لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے جو کہ نجی اخفا کے حق میں مداخلت ہے۔ اس سے معاشرے میں پہلے سے پھیلا خوف مزید بڑھ جائے گا اور لوگوں کی کڑی نگرانی ہونے لگے گی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری افغان حکمرانوں سے انسانی حقوق سے متعلق ملکی ذمہ داریوں کا پاس کرنے اور حقوق کی پامالیوں پر احتساب کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بعض ممالک نے افغانستان میں ایسے اقدامات کو صنفی عصبیت کی قانونی شکل قرار دیا ہے۔
عالمی برادری سے اپیل
ماہرین نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے بارے میں ایک مضبوط، اصولی اور مربوط حکمت عملی بنائیں جس میں انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے انسانی حقوق اور صنفی مساوات کو مرکزی اہمیت حاصل ہو۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی حکمت عملی کے بغیر افغانستان سے روابط قائم کرنے کی صورت میں طالبان کو لوگوں کے حقوق پامال کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ ایسی پامالیوں کے خاتمے میں مسلسل ناکامی سے یہ غلط تاثر ابھرتا ہے کہ مساوات، سلامتی اور وقار کے لیے افغان خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس سے مستحکم، مشمولہ اور خوشحال افغانستان کا امکان کمزور پڑ جائے گا۔
ماہرین و خصوصی اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔