یو این کا عالمی امدادی ضروریات کے لیے ہنگامی رقم کا اجراء
اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں اشد امدادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے مرکزی ہنگامی فنڈ (سی ای آر ایف) سے 10 کروڑ ڈالر جاری کر دیے ہیں۔
اس رقم میں سے دو کروڑ ڈالر یمن اور ڈیڑھ کروڑ ایتھوپیا میں امدادی اقدامات پر صرف ہوں گے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو بھوک، بےگھری، بیماریوں اور موسمیاتی تباہی کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس فنڈ سے میانمار کو ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر، مالی کو ایک کروڑ 10 لاکھ، برکینا فاسو کو ایک کروڑ، ہیٹی کو 90 لاکھ جبکہ کیمرون اور موزمبیق کو 70، 70 لاکھ ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تمام ممالک جنگوں اور موسمیاتی بحران سے متاثرہ ہیں۔
موسمیاتی مظہر 'ال نینو' کے نتیجے میں خشک سالی اور سیلاب کا سامنا کرنے والے ممالک کو بھی اس فنڈ سے حصہ ملے گا۔ اس ضمن میں افریقی ملک برونڈی کو 50 لاکھ اور مالی کو 40 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔ اس رقم کا ایک حصہ موسمیاتی حوالے سے مستحکم امدادی اقدامات پر خرچ ہو گا۔
ہنگامی مالی امداد
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل جوئس مسویا نے کہا ہے کہ بہت سے انسانی بحرانوں میں مالی وسائل کی قلت کے باعث امدادی ادارے ایسے لوگوں تک نہیں پہنچ پاتے جنہیں ضروری امداد درکار ہوتی ہے اور یہ صورتحال نہایت دل شکن ہے۔
'سی ای آر ایف' کے وسائل ایسے وقت میں بدترین حالات کو روکنے اور زندگیاں بچانے پر خڑچ کیے جاتے ہیں جب اس مقصد کے لیے دیگر امداد ناکافی ہو۔ مالی وسائل کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے عطیہ دہندگان کی جانب سے بڑے پیمانے پر اور متواتر امداد کی ضرورت ہے۔
جوئس مسویا ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی قائم مقام سربراہ ہیں۔ انہوں نے مارٹن گرفتھس کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالی ہیں جنہوں نے رواں سال جون میں اپنا عہدہ چھوڑا تھا۔
ضروریات اور وسائل میں فرق
رواں سال یہ دوسرا موقع ہے جب اقوام متحدہ نے 'سی ای آر ایف' سے ہنگامی امدادی وسائل کا اجرا کیا ہے۔ قبل ازیں فروری میں چاڈ، جمہوریہ کانگو، ہونڈوراس، لبنان، نیجر، سوڈان اور شام کے لیے اس فنڈ سے 100 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے۔
'اوچا' نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال امدادی بحرانوں کے لیے فراہم کردہ 200 ملین ڈالر گزشتہ تین برس میں اس فنڈ سے جاری کردہ کم ترین رقم ہے۔ اس سے امدادی ضروریات اور انہیں پورا کرنے کے لیے 'سی ای آر ایف' کو موصول ہونے والے مالی وسائل کے مابین بڑے فرق کا اندازہ ہوتا ہے۔
رواں سال امدادی اداروں کو دنیا بھر میں انتہائی غیرمحفوظ 18 کروڑ 70 لاکھ لوگوں تک رسائی کے لیے 49 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ فی الوقت ان میں سے 29 فیصد وسائل (14 ارب ڈالر) ہی موصول ہو سکے ہیں۔