انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افریقی النسل لوگوں کے خلاف تعصب اور امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ

سال 2021 میں اقوام متحدہ نے 31 اگست کو افریقی النسل لوگوں کا عالمی دن قرار دیا تھا۔
Unsplash/Thomas de Luze
سال 2021 میں اقوام متحدہ نے 31 اگست کو افریقی النسل لوگوں کا عالمی دن قرار دیا تھا۔

افریقی النسل لوگوں کے خلاف تعصب اور امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افریقی النسل لوگوں کے خلاف نسل پرستی اور امتیاز کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمگیر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

افریقی النسل لوگوں کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے قائدانہ اور فعال کردار کے ذریعے حقیقی تبدیلی کی جانب عالمگیر کوششوں کو تیز کیا ہے۔ تاہم ان کے خلاف غلامی اور نوآبادیاتی دور کی ناقابل برداشت میراث اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ آئندہ دہائی کو بھی افریقی النسل لوگوں کی خدمات کے اعتراف، انہیں انصاف اور ترقی کی فراہمی کے لیے وقف کرنے کا عہد کریں۔

2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2015 سے 2025 تک افریقی النسل لوگوں کی دہائی منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد ان لوگوں کے حقوق کو فروغ دینا، ثقافتی میدان میں ان کی کامیابی کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور ان کے خلاف نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنے کے لیے قانونی طریقہ ہائے کار کو مضبوط کرنا ہے۔

2021 میں اقوام متحدہ نے 31 اگست کو افریقی النسل لوگوں کا عالمی دن قرار دیا تھا۔

نسل پرستی کی روک تھام

سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ افریقی النسل لوگوں کو منظم نسل پرستی کا سامنا ہے اور نئی ٹیکنالوجی میں ان کی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے جن میں استعمال ہونے والے الگورتھم امتیاز کو تقویت دیتے ہیں۔ نسل پرستی اور نسلی امتیاز کی لعنت کا خاتمہ کرنا اقوام متحدہ کی ترجیح ہے اور اس نے انسداد نسل پرستی کا نیا دفتر بھی قائم کیا ہے جو کام کی جگہوں پر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں کو آگے بڑھائے گا۔

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیوں اور قوانین کو فروغ دیں اور ان پر عملدرآمد کرائیں جن سے منظم نسل پرستی پر قابو پایا جائے اور شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔

غلامی سے متعلق جرائم پر انصاف کی فراہمی بھی ضروری ہے اور سبھی کے لیے مساوات، مواقع اور انصاف پر مبنی دنیا کی خاطر عالمگیر کوششیں عمل میں لانا ہوں گی۔

منظم و ساختیاتی تفریق

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے مقرر کردہ ماہرین نے بھی نسل پرستی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افریقی النسل لوگ منظم اور ساختیاتی نسل پرستی اور نسلی تفریق کا شکار ہیں۔

ان لوگوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیاں یقینی بنانے اور ان کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کا خاتمہ کرنے کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقی النسل لوگوں کو براہ راست متاثر کرنے والے مسائل پر قابو پاتے ہوئے آئندہ دہائی میں ان کی خدمات کے اعتراف، انہیں انصاف کی فراہمی اور ان کی ترقی پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو انسانی حقوق سے متعلق ذرائع، حکمت عملی اور نگرانی کے ایسے نظام بنانے اور نافذ کرنے چاہئیں جن سے منطم نسل پرستی کا خاتمہ ہو اور آئندہ دہائی میں افریقی النسل لوگوں کے حقوق کو مکمل تحفظ اور احترام مل سکے۔

ماہرین نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ ستمبر میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل اور اکتوبر میں حیاتیاتی تنوع کے تحفط کے کنونشن کے ریاستی فریقین کی 16ویں کانفرنس میں افریقی النسل لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔