انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نوعمر افراد میں کنڈوم کے استعمال میں کمی پر ڈبلیو ایچ او کو تشویش

ڈبلیو ایچ او کے مطابق بہت سے ممالک اور خطوں میں کنڈوم کے استعمال میں کمی آئی ہے۔
UN News/Daniel Dickinson
ڈبلیو ایچ او کے مطابق بہت سے ممالک اور خطوں میں کنڈوم کے استعمال میں کمی آئی ہے۔

نوعمر افراد میں کنڈوم کے استعمال میں کمی پر ڈبلیو ایچ او کو تشویش

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ جنسی طور پر فعال بالغوں میں گزشتہ دہائی کے دوران غیرمحفوظ جسمانی تعلقات قائم کرنے کی شرح میں پریشان کن حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

یورپ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے علاقائی دفتر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے دوران کنڈوم کے استعمال میں غیرمعمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس سے نوجوانوں کے لیے جنسی ذرائع سے لاحق ہونے والی بیماریوں، غیرمحفوظ اسقاط حمل اور ان چاہے حمل جیسے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

Tweet URL

یہ رپورٹ سکول جانے کی عمر کے بچوں میں حالیہ طبی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کی تیاری میں 2014 سے 2022 کے دوران یورپ اور وسطی ایشیا کے 42 ممالک اور کینیڈا میں 15 سال عمر کے 240,000 سے زیادہ بچوں سے بات چیت کی گئی۔

کنڈوم اور مانع حمل ذرائع سے گریز

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ بہت سے ممالک اور خطوں میں کنڈوم کے استعمال میں کمی آئی ہے۔ اس جائزے میں جنسی طور پر فعال لڑکوں کی 61 فیصد تعداد نے بتایا کہ انہوں نے آخری مرتبہ جنسی عمل کے دوران کنڈوم استعمال کیا تھا جبکہ 2014 میں یہ شرح 70 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ لڑکیوں میں یہ شرح 63 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد پر آ گئی ہے۔

ایک تہائی بالغ افراد نے بتایا کہ انہوں نے آخری مرتبہ جنسی عمل کے دوران نہ تو کنڈوم استعمال کیا اور نہ ہی مانع حمل گولی کھائی تھی۔

اس رپورٹ سے کنڈوم یا دیگر مانع حمل ذرائع کے استعمال سے متعلق سماجی۔معاشی فرق کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں کنڈوم یا مانع حمل گولیوں کے استعمال کی شرح مالی طور پر مستحکم خاندانوں کے افراد سے زیادہ تھی۔

جنسی تعلیم کی مخالفت

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ بہت سے ممالک میں بچوں کو سکولوں میں جنسی تعلیم دینے سے احتراز غیرمحفوظ جنسی تعلقات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یورپ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے نے کہا ہے کہ بہت سے ممالک میں عمر کے حساب سے موزوں جنسی تعلیم کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور جہاں یہ تعلیم میسر ہے وہاں حالیہ برسوں میں اس خام خیال نے تقویت پائی ہے کہ اس سے جنسی رویوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

درحقیقت، جنسی تعلیم کی بدولت نوعمر افراد میں ذمہ دارانہ جنسی رویے فروغ پاتے ہیں اور وہ جنسی حوالے سے بہتر انتخاب کے قابل ہو جاتے ہیں۔ جنسی تعلیم کے بارے میں غلط مفروضوں کا نتیجہ طبی نگہداشت پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافے اور نوجوانوں کی تعلیم  اور ان کے مستقبل پر منفی اثرات کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوعمر افراد کو ان کی جنسی صحت سے متعلق آگاہی پر مبنی فیصلوں کے لیے بااختیار بنانے سے ان کی مجموعی بہبود میں بہتری آتی ہے اور ہر جگہ تمام والدین اور خاندانوں کو اپنے بچوں کے لیے یہی کچھ درکار ہونا چاہیے۔