نائجیریا ایم پاکس ویکسین حاصل کرنے والا پہلا افریقی ملک، ڈبلیو ایچ او
نائجیریا ایم پاکس کے خلاف ویکسین حاصل کرنے والا افریقہ کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ امریکہ کی حکومت نے نائجیریا کو اس ویکسین کی 10 ہزار خوراکیں عطیہ کی ہیں جن سے اسے بیماری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
افریقہ کے لیے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے علاقائی دفتر نے بتایا ہے کہ یہ ویکسین ملک میں ایم پاکس سے متاثرہ پانچ علاقوں میں پانچ ہزار ایسے لوگوں کو دی جائے گی جنہیں اس بیماری سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ان میں ایم پاکس کے مریضوں سے قریبی رابطے میں آنے والے لوگ اور نچلی سطح پرکام کرنے والے طبی کارکن شامل ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ویکسین پہنچانے کا بندوبست کیا جائے گا۔
'ڈبلیو ایچ او' نے 14 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ایم پاکس کا پھیلاؤ عالمگیر صحت عامہ کے لیے ہنگامی نوعیت کا خطرہ ہے۔ اس اعلان کے بعد ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا تھا کہ وہ اس بیماری کی ویکسین تک مساوی رسائی میں سہولت دینے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
صحت عامہ اور عالمگیر یکجتہی
نائجیریا کے وزیر صحت محمد علی پاتے نے کہا ہے کہ امریکہ نے نائجیریا کو جینیوس (ایم وی اے) ویکسین عطیہ کی ہے جو محفوظ و موثر ہے۔ اس کی بدولت ایم پاکس پر قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ ملک میں اس بیماری کی نگرانی کی کوششوں کو مزید موثر بنایا جائےگا۔
قبل ازیں ملک کے ادارہ خوراک و ادویات نے ہنگامی حالات میں اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔
افریقہ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر متشیدیسو موئتی نے کہا ہے کہ نائجیریا کو ویکسین کی فراہمی اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور صحت کو تحفظ دینے کے اقدامات میں ایک اہم اضافہ ہے تاہم اس سے عالمگیر صحت عامہ کو لاحق خطرات میں بین الاقوامی یکجہتی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
ایم پاکس کی روک تھام
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ افریقہ میں ایم پاکس ویکسین تک رسائی میں اب بھی سنگین مشکلات حائل ہیں۔ ادارہ ممالک اور ادویہ ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر خطے میں حسب ضرورت ویکسین کی فراہمی کے لیے کام کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں، 'ڈبلیو ایچ او' اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور دیگر کے اشتراک سے ایسے ممالک سے ویکسین کے عطیات لینے کے لیے بھی کوشاں ہے جہاں اس کے ذخائر موجود ہیں۔ شراکت دار انتہائی ضرورت مند علاقوں میں ویکسین کی فراہمی کے لیے ایک عطیہ سکیم بھی شروع کر رہے ہیں۔
افریقہ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کا دفتر نائجیریا کی حکومت کو ایم پاکس کی نگرانی اور اس میں مبتلا مریضوں سے رابطوں میں رہنے والوں کی نشاندہی، بیماری کی تشخیص کے نظام کو بہتر بنانے، اس سے لاحق خدشات کے حوالے سے آگاہی پھیلانے اور بیماری سے نمٹنے کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
10 اگست کو ملک میں ایم پاکس کے 786 مشتبہ مریض سامنے آ چکے تھے جبکہ 39 افراد کے اس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔
طبی حکام ایم پاکس میں مبتلا افراد کی بروقت نشاندہی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی مقامات پر لوگوں کے طبی معائنے سے متعلق اقدامات میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔