مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکارانہ مظالم کی مذمت
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے اقدامات سے علاقے میں پہلے سے تباہ کن حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے زمینی و فضائی حملے اور آباد کاروں کا تشدد بڑھ گیا ہے۔ سوموار کو تلکرم کے نور شمس پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے کم از کم پانچ حملے کیے جن میں دو بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
اگر سکیورٹی فورسز نے آباد کاروں کے تشدد کو نظرانداز کرنا اور فلسطینیوں کے خلاف غیرقانونی مہلک طاقت کا منظم استعمال جاری رکھا تو مقبوضہ مغربی علاقے میں حالات غیرمعمولی طور پر کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالی
'او ایچ سی ایچ آر' کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 اور 27 اگست 2024 کے درمیانی عرصہ میں مغربی کنارے میں 628 فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں 609 ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہوئیں، 11 افراد آبادکاروں کے حملوں میں مارے گئے جبکہ آٹھ افراد کی ہلاکت ممکنہ طور پر دونوں کی مشترکہ کارروائیوں کا نتیجہ تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں 29 نوعمر لڑکے اور تین خواتین بھی شامل ہیں۔
ادارے نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ان اقدامات کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی حملوں اور فلسطینیوں کے خلاف عسکری ہتھیاروں کے استعمال کا نتیجہ ماورائے عدالت اور غیرقانونی ہلاکتوں اور فلسطینیوں کے گھروں کی تباہی کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔
آباد کاروں کا تشدد
'او ایچ سی ایچ آر' نے بتایا ہے کہ سوموار کو درجنوں مسلح اسرائیلی آباد کاروں نے بیت اللحم کے گاؤں وادی راحل پر بھی حملہ کیا جس میں ایک فلسطینی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں نے فلسطینی ایمبولینس گاڑیوں کی زخمیوں تک رسائی میں بھی رکاوٹ ڈالی۔ موقع پر موجود اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
ادارے کا کہنا ہےکہ ایسے واقعات مقبوضہ مغربی علاقے میں آباد کاری کے لیے اسرائیل کی پالیسی کا براہ راست نتیجہ اور بین الاقوامی قانون کی پامالی ہیں۔ یہ کارروائیاں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی ملی بھگت سے ہو رہی ہیں اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کو اس کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
'او ایچ سی ایچ آر' مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں پر آبادکاروں کے روزانہ حملوں بشمول انہیں جسمانی نقصان پہنچانے، ان کی املاک اور فصلوں کو تباہ اور نذر آتش کرنے، بھیڑیں چُرانے، انہیں اپنی زمین، پانی اور چراگاہوں تک رسائی سے روکنے اور اپنے گھروں اور زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کے واقعات کی تفصیلات جمع کرتا ہے۔
مشرقی یروشلم میں عدم تحفظ
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں 753 بچوں سمیت 1,547 افراد پر مشتمل 259 فلسطینی گھرانے اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
'او ایچ سی ایچ آر' نے بتایا ہے کہ مشرقی یروشلم میں اسرائیل کے حکام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امتیازی قانون کا نفاذ کر رہے ہیں اور فلسطینیوں کے گھروں کو گرایا جا رہا ہے۔
سلوان میں ہزاروں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کا خطرہ لاحق ہے۔ گزشتہ روز اسرائیلی فورسز نے اس علاقے میں ایک خاندان کا گھر مسمار کر دیا جس سے دو بچوں سمیت 10 فلسطینی بے گھر ہو گئے۔
7 اکتوبر کے بعد اسی علاقے میں فلسطینیوں کے مزید چھ گھر مسمار کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اسے سرسبز علاقہ بنانے کے لیے فلسطینی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں اس وقت 1,550 افراد رہتے ہیں۔
نقل مکانی کا بحران
غزہ میں اقوام متحدہ کی ٹیمیں مشکل حالات میں لوگوں کو امداد پہنچانے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہیں۔ مختلف علاقوں سے انخلا کے احکامات اور عسکری نقل و حرکت کے باعث انہیں امدادی اقدامات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کی ترجمان اعلیٰ لوسی ویٹریج نے اس صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ غزہ بھر میں خاندان، مائیں اور بچے اپنا سامان گھسیٹتے ہوئے ایک سے دوسری جگہ جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اس سفر کے لیے کسی طرح کی کوئی گاڑیاں دستیاب نہیں ہیں اور وہ نامعلوم منزل کی جانب پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں پناہ کے لیے بہت کم جگہ دستیاب ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی حکام نے جن علاقوں کو محفوظ قرار دیا تھا وہاں اب ٹینک دکھائی دیتے ہیں اور عملاً پورے علاقے میں فلسطینی آبادی کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔