گوتیرش کی برکینا فاسو میں دہشتگردانہ حملے اور ہلاکتوں کی شدید مذمت
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افریقی ملک برکینا فاسو میں دہشت گردی کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے جس میں 200 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملہ بارسالوگو شہر کے علاقے برکینابے میں ہوا جس کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک شدت پسند گروہ جماعت نصرت الاسلام والمسلم (جے آئی این ایم) نے قبول کی ہے۔ اس گروہ نے حالیہ عرصہ میں ملک کے بڑے حصوں پر تسلط جما لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جب یہ حملہ ہوا تو اس وقت بارسالوگو کے رہائشی ایسی کسی متوقع کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے علاقے کے اردگرد خندقیں کھود رہے تھے۔
سلامتی کا بحران
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے منگل کو معمول کی پریس بریفنگ میں صحافیون کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں اور زخمیوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے دہشت گرد کے خلاف جنگ میں ملکی کی عبوری حکومت سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
'جے آئی این ایم' ہمسایہ ملک مالی سے برکینا فاسو میں منتقل ہونے والے متعدد گروہوں میں سے ایک ہے۔ اس کی کارروائیوں سے ملک میں بڑے پیمانے پر سلامتی کے بحران نے جنم لیا ہے جس کے نتیجے میں 2022 سے اب تک ملک میں دو فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں۔
امداد کی عدم رسائی
مقامی حکام کے مطابق بارسالوگو میں گزشتہ سال سے 90 ہزار بے گھر لوگوں نے بھی پناہ لے رکھی تھی۔ یہ لوگ اردگرد کے علاقوں میں سلامتی کی مخدوش صورتحال کے باعث یہاں آئے تھے اور ان کی آمد سے مقامی سطح پر اشیا و خدمات پر بوجھ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا کہ بارسالوگو جس صوبے کا حصہ ہے وہاں شدید درجے کی بھوک پھیلی ہے اور عدم تحفظ کی صورتحال نے علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے۔ 2022 سے اس علاقے میں ہیلی کاپٹر کے علاوہ کسی اور ذریعے سے امدادی اداروں کی رسائی ممکن نہیں رہی۔
اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں حملے کا نشانہ بننے والے علاقے میں لوگوں کو مدد پہنچانے میں مصروف ہیں جہاں کے مناظر ہولناک ہیں۔