انسانی کہانیاں عالمی تناظر
انڈیا کے علاقے مغربی بنگال میں طوفانی لہریں ساحلی آبادیوں کا رخ کیے ہوئے ہیں (فائل فوٹو)۔

سطح سمندر میں اضافہ کیا ہے اور اس کے دنیا پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟

Climate Visuals/Supratim Bhattacharjee
انڈیا کے علاقے مغربی بنگال میں طوفانی لہریں ساحلی آبادیوں کا رخ کیے ہوئے ہیں (فائل فوٹو)۔

سطح سمندر میں اضافہ کیا ہے اور اس کے دنیا پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟

موسم اور ماحول

سمندروں کی سطح میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزرفتار اور بلند درجے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے تمام انسانیت کے لیے ہنگامی نوعیت کا بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ملک ٹونگا اور سیموا کے دورے پر ہیں جہاں بڑھتی سطح سمندر بھی ایسے مسائل میں شامل ہے جن پر انہوں نے مقامی لوگوں سے بات کی ہے۔

عالمی رہنما اور ماہرین اس خطرے پر قابو پانے کے اقدامات پر بات چیت کے لیے 25 ستمبر کو اقوام متحدہ میں جمع ہوں گے۔

سطح سمندر میں اضافے کے مسئلے پر درج ذیل باتوں سے آگاہی ضروری ہے۔

بڑھتا، پھیلتا اور بلند ہوتا پانی

اندازے کے مطابق 1980 کے بعد سمندروں کی سطح میں 20 تا 23 سینٹی میٹر (8 تا 9 انچ) تک اضافہ ہوا ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 2023 میں عالمگیر سطح سمندر تین دہائیوں میں ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی تھی۔ 1993 سے 2002 تک کے عرصہ کو مدنظر رکھا جائے تو گزشتہ 10 سال کے دوران اس بلندی میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔

سطح سمندر میں اضافہ سینٹ لوشیا جیسے علاقوں میں سیاحت کو متاثر کر رہا ہے۔
© Unsplash/Omar Eagle
سطح سمندر میں اضافہ سینٹ لوشیا جیسے علاقوں میں سیاحت کو متاثر کر رہا ہے۔

سطح سمندر کیوں بڑھتی ہے؟

سمندر کی سطح میں اضافہ سمندروں میں گرمی بڑھنے اور گلیشیئر و برف کی تہیں پگھلنے کے باعث ہوتا ہے اور یہ تمام صورتحال موسمیاتی تبدیلی سے جنم لیتی ہے۔

اگر عالمی حدت میں اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود رہے تو تب بھی سطح سمندر میں بڑی مقدار میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

بحر اوقیانوس میں آبی دھارے (گلف سٹریم) کی حرکت میں تبدیلی بھی مختلف علاقوں میں سطح سمندر کو بڑھا دیتی ہے۔

اونچے پانیوں سے لاحق خطرات

سطح سمندر میں اضافے سے ناصرف مادی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ انتہائی غیرمحفوظ ممالک کا معاشی، سماجی اور ثقافتی تانا بانا بھی بگڑ جاتا ہے۔

کھارے پانی کے سیلاب سے ساحلی مساکن کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس میں مونگے کے جزیرے، پانی میں مچھلیوں کے ذخائر، زرعی زمینیں اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ اس کیفیت کے باعث ساحلی آبادیوں کے لیے اپنے روزگار کو قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ سیلاب تازہ پانی کو آلودہ کر دیتا ہے، پانی سے پھیلنے والی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں اور لوگوں کی صحت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔

ان حالات میں سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی کمی آتی ہے جو چھوٹے جزائر پر مشتمل بہت سے ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس) کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ کھارے پانی کے سیلاب سے ساحلی علاقوں، تفریح گاہوں اور مونگے کے جزیروں جیسے سیاحتی دلچسپی کے دیگر مقامات کو بھی نقصان ہوتا ہے۔

جب کہیں ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر بالائی علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا ملک سے ہجرت کر جاتے ہیں جس کا نتیجہ معیشتوں، روزگار اور معاشروں کے نقصان کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس صورتحال کو کثیرالجہتی خطرہ قرار دیا ہے۔

سطح سمندر میں اضافے سے نیو یارک جیسے بڑے شہروں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
UN News/Daniel Dickinson
سطح سمندر میں اضافے سے نیو یارک جیسے بڑے شہروں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

بڑھتی سطح سمندر اور موسمیاتی تبدیلی میں تعلق

سطح سمندر میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کی ایک اہم علامت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں جب عالمی حدت بڑھتی ہے تو سمندر فالتو گرمی کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ اس طرح پانی گرم ہو کر پھیل جاتا ہے جسے حرارتی پھیلاؤ بھی کہتے ہیں اور اس کا سطح سمندر کے اضافے میں اہم کردار ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے سطح سمندر میں ہونے والا اضافہ اس تبدیلی کے اثرات کو اور بھی شدید بنا دیتا ہے۔

مثال کے طور پر، ساحلی مساکن کو تحفظ دینے اور کاربن کو جذب کرنے والے ساحلی دلدلی جنگلات سطح سمندر بڑھنے کے نتیجے میں اپنی یہ خصوصیات کھو دیتے ہیں۔ جب ان جنگلات کی تعداد کم ہو جاتی ہے تو مزید بڑی مقدار میں نقصان دہ گیسیں ماحول کا حصہ بنتی ہیں اور اس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے، گرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور سطح سمندر مزید اونچی ہو جاتی ہے۔

غیرمحفوظ ممالک

اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 90 کروڑ لوگ یا کرہ ارض کی 10 فیصد آبادی سمندری ساحلوں کے قریب رہتی ہے۔

اس صورتحال میں بنگلہ دیش، چین، انڈیا، نیدرلینڈز اور پاکستان جیسے گنجان آباد ممالک میں ساحلی علاقوں پر رہنے والے لوگوں کو تباہ کن سیلابوں کا سامنا ہو گا۔ علاوہ ازیں، بنکاک، بیونس آئرس، لاگوس، لندن، ممبئی، نیویارک اور شنگھائی جیسے بڑے شہر خطرے کی زد میں ہیں۔

چھوٹے جزائر پر مشتمل نشیبی ممالک کو بڑھتی سطح سمندر سے لاحق خطرات دوسروں سے کہیں زیادہ ہیں۔ فجی، وینوآتو اور جزائر سولومن جیسی جگہوں پر رہنے والے لوگ سطح سمندر میں اضافے اور دیگر خطرات سے بچنے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

پاکستان خاص طور اس کے ساحلی علاقے بڑھتی سطح سمندر سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
© UNICEF/Vlad Sokhin
پاکستان خاص طور اس کے ساحلی علاقے بڑھتی سطح سمندر سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

سطح سمندر میں اضافہ کیسے روکا جائے؟

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو پا کر عالمی حدت میں اضافے کی رفتار میں کمی لانا ہی سطح سمندر میں اضافے کو روکنے کا موثر ترین طریقہ ہے۔ علاوہ ازیں، بڑھتی سطح سمندر کو روکنے اور اس سے مطابقت اختیار کرنے کے اقدامات بھی اہم ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین سمندری پانی کو روکنے کے لیے ساحلوں پر دیواروں کی تعمیر، نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اور سیلاب کا مقابلہ کرنے والی عمارتیں تعمیر کرنے، ساحلی دلدلی جنگلات کو تحفظ دینے، خشکی پر آبی مقامات اور سمندروں میں مونگے کے جزیروں کی حفاظت جیسے اقدامات کی سفارش کرتے ہیں۔

بہت سے ممالک اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اپنے منصوبوں کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے تعاون سے قدرتی آفات کے بارے میں بروقت آگاہی دینے کے نظام خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

غیرمحفوظ ساحلی علاقوں سے انسانی آبادیوں کو ہٹانا بھی بڑھتی سطح سمندر سے پیدا ہونے والی صورتحال سے مطابقت اختیار کرنے کے اقدامات کا حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کیسے مدد دے سکتا ہے؟

بڑھتی سطح سمندر جامع اور بین الاقوامی سطح پر مربوط طریقہ کار کا تقاضا کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) نے عالمی حدت میں کمی لانے کے لیے پیرس معاہدہ طے کروایا جس کی مستقبل میں سطح سمندر میں کمی لانے کے لیے خاص اہمیت اور ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ جزائر پر مشتمل چھوٹے ترقی پذیر ممالک کو بھی مدد مہیا کرتا ہے اور اس نے عالمی برادری کے تعاون سے انہیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کے لیے نقصان اور تباہی کے فنڈ کے ذریعے مالی وسائل فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔