انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بڑھتی سطح سمندر کے مسئلے سے نمٹنے کی فوری ضرورت، گوتیرش

بڑھتی سطح سمندر بحرالکاہل میں چھوٹے جزیروں پر مشتمل ممالک کے لیے وجودی خطرہ ہے۔
© WMO/João Murteira
بڑھتی سطح سمندر بحرالکاہل میں چھوٹے جزیروں پر مشتمل ممالک کے لیے وجودی خطرہ ہے۔

بڑھتی سطح سمندر کے مسئلے سے نمٹنے کی فوری ضرورت، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سمندروں کا تحفظ کریں اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اقدامات کی رفتار میں تیزی لائیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ عالمی رہنما کاربن کے اخراج میں بڑے پیمانے پرکمی لائیں، معدنی ایندھن کا استعمال روک دیں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر مزید سرمایہ کاری کریں۔

Tweet URL

انہوں نے یہ بات ٹونگا کے دارالحکومت نوکو آلوفا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ سیکرٹری جنرل بحرالکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کے فورم میں شرکت کے لیے ٹونگا آئے تھے۔

کرہ ارض کی تباہی

انہوں نے کہا کہ سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی ذمہ داری پوری دنیا پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بحران بہت جلد ایسی سطح پر پہنچ جائے گا جہاں کوئی احتیاطی تدبیر کام نہیں آئے گی۔ تاہم، بحرالکاہل کو تحفظ دیا جائے تو پوری انسانیت کا تحفظ ممکن ہے۔ اس معاملے میں بلاتاخیر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ سطح سمندر میں جس شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی گزشتہ 3,000 سال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ معدنی ایندھن جلنے سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں کرہ ارض کو تباہ کر رہی ہیں اور یہ گرمی سمندروں کا حصہ بن رہی ہے۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ گزشتہ 50 برس کے دوران کرہ ارض پر بڑھنے والی 90 فیصد گرمی سمندروں میں جذب ہوئی ہے۔ جب پانی گرم ہوتا ہے تو پھیل جاتا ہے اور اس سے سمندر کی سطح اونچی ہو جاتی ہے۔ گلیشیئر اور برف کی تہیں پگھلنے سے بھی یہ سطح بڑھتی جا رہی ہے۔

بڑھتا اور پھیلتا سمندر

اقوام متحدہ کی جاری کردہ دو رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سطح سمندر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 1980 کے بعد گرمی کی لہروں کا دورانیہ، شدت اور رفتار بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی سطح سمندر سے طوفان اور ساحلی علاقوں میں سیلاب بھی تواتر سے آنے لگے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے ان رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جنوب مغربی بحرالکاہل میں سطح سمندر میں اضافہ عالمی اوسط کے مقابلے میں زیادہ ہے اور گزشتہ تین دہائیوں میں پانی کی سطح دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں غیرمعمولی کمی نہ ہوئی تو اس صدی کے وسط تک بحرالکاہل کے جزائر مزید 15 سینٹی میٹر تک سمندر میں ڈوب جائیں گے اور بعض ساحلی مقامات پر سال میں 30 روز تک سیلابی کیفیت رہے گی۔

عالمی حدت میں قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 2 ڈگری سیلسیئس اضافے سے گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹکا میں برف کی تہیں پگھل جائیں گے۔ اس کا نتیجہ آئندہ ہزار سال تک سطح سمندر میں 20 میٹر اضافے کی صورت میں نکلے گا۔

ٹوولو میں لوگ سمندری کٹاؤ کو روکنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت بند تعمیر کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Lasse Bak Mejlvang
ٹوولو میں لوگ سمندری کٹاؤ کو روکنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت بند تعمیر کر رہے ہیں۔

انسانیت کے لیے خطرہ

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ حالات برقرار رہے تو کرہ ارض کا درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 3 ڈگری سیلسیئس تک بڑھ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں سطح سمندر میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو گا جس سے ٹونگا اور بڑے چھوٹے جزائر پر مشتمل بہت سے ممالک کی 90 کروڑ آبادی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

اس صورتحال میں بنگلہ دیش، چین، انڈیا، نیدرلینڈز اور پاکستان جیسے گنجان آباد ممالک میں ساحلی علاقوں پر رہنے والے لوگوں کو تباہ کن سیلابوں کا سامنا ہو گا۔

علاوہ ازیں، بنکاک، بیونس آئرس، لاگوس، لندن، ممبئی، نیویارک اور شنگھائی جیسے بڑے شہر خطرے کی زد میں ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور ماحول کو تحفط دینے کے اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ اس میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل کی فراہمی خاص طور پر اہم ہے۔

سمندری سطح بڑھنے سے بنگلہ دیش میں گھر زیر آب آنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
© WFP/Sayed Asif Mahmud
سمندری سطح بڑھنے سے بنگلہ دیش میں گھر زیر آب آنا معمول بنتا جا رہا ہے۔

جی20 ممالک کی ذمہ داری

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2019 کے مقابلے میں 43 فیصد تک کمی لانا ہو گی۔

اس حوالے سے انہوں نے حکومتوں اور ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنے نئے قومی منصوبوں پر کام کریں جن کا وعدہ انہوں نے گزشتہ سال دبئی میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 28) میں کیا تھا۔

سیکرٹری جنرل نے معدنی ایندھن کا استعمال بتدریج اور تیزی سے ترک کرنے، کوئلے، تیل و گیس کے منصوبوں کو روکنے اور قابل تجدید توانائی کے استعمال میں تین گنا تک اضافے کے لیے سرمایہ کاری پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے صنعتی ممالک (جی20) پر اس حوالے سے خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔