پاکستان: یو این چیف کی بلوچستان میں ہوئی شہری ہلاکتوں کی کڑی مذمت
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی ہے جن میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے شہریوں کے خلاف ایسے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
اطلاعات کے مطابق، بلوچستان کے 10 سے زیادہ اضلاع میں 25 اور 26 اگست کی درمیانی رات ہونے والے ان حملوں میں 21 شدت پسند اور سکیورٹی اداروں کے 14 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
ان حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان موسیٰ خیل، ضلع لسبیلہ، قلات اور مستونگ میں ہوا۔ موسیٰ خیل میں مسلح افراد نے صوبہ پنجاب اور بلوچستان کے درمیان سفر کرنے والی متعدد گاڑیوں کو روک کر ان سے لوگوں کو اتارنے کے بعد 23 افراد کو ہلاک کر دیا۔
مسلح افراد نے اس علاقے میں 18 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا جن میں مسافر بس، ٹرک اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔ بعض گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی جبکہ چند ایک کو نذرآتش کر دیا گیا۔
حکام نے ضلع قلات میں 11 افراد اور ضلع کچھی کے علاقے بولان میں چھ افراد کے قتل کی تصدیق کی ہے۔
صوبہ بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ان حملوں سے قبل 'بی ایل اے' نے صوبے میں واقع فوج کے کیمپوں پر حملوں اور صوبے بھر میں مختلف شاہراہوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تاہم، آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔