یو این اعلیٰ اہلکار کی یوکرینی علاقوں پر تازہ روسی حملوں کی مذمت
یوکرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار نے ملک پر روس کے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ پندرہ علاقوں پر کیے گئے ان حملوں میں متعدد شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
رابطہ کار میتھیاس شمیل نے کہا ہے کہ سوموار کی صبح حملوں سے بچنے کے لیے یوکرین کے لاکھوں لوگوں کی طرح وہ خود بھی کئی گھنٹوں تک پناہ گاہ میں رہے۔ ان حملوں میں متعدد شہری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
حملوں میں توانائی کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے اور متعدد علاقوں میں بجلی اور پانی کی ترسیل بند ہو گئی۔
یہ حملے ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب یوکرین نے روس میں کرسک کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین پر ان میزائل اور ڈرون حملوں کی شدت ماضی سے کہیں زیادہ تھی۔
شہریوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ
یوکرین میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ ملک کے متعدد علاقوں میں صبح کے وقت بچے اور بچیاں الارم اور دھماکوں کی آوازیں سن کر بیدار ہوئے۔
ادارے نے دارالحکومت کیئو کے میٹرو سٹیشنوں پر بچوں اور خاندانوں کے پناہ لینے کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔
رواں سال کے آوائل میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے بتایا تھا کہ روس نے یوکرین میں توانائی کے نظام پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے اپریل میں ہی ایسے 50 حملوں کی تصدیق کی تھی۔
میتھائس شمیل نے کہا ہے کہ یوکرین کے لوگ معمول کی زندگی گزارنے کے بجائے میٹرو سٹیشنوں اور دیگر جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں اور یہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔ جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں۔ ہر طرح کے حالات میں بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی ہونی چاہیے اور شہریوں کو جنگی کارروائیوں سے تحفظ ملنا چاہیے۔
ہنگامی اقدامات کی اپیل
یوکرین میں اقوام متحدہ میں جنسی و تولیدی صحت کے ادارے (یو این ایف پی اے) کے نمائندے میسیمو ڈیانا نے بھی یوکرین پر روس کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں افسوسناک قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لوتسک اور زیتومیر میں ہونے والے ان حملوں میں المناک طور سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اہم تنصیبات پر ایسے مہلک حملے قابل مذمت ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات ہونے چاہئیں۔