انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یو این ادارے میانمار میں متاثرین سیلاب تک امداد پہنچانے میں مصروف عمل

میانمار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ایک فضائی منظر۔
UN Photo/Evan Schneider
میانمار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ایک فضائی منظر۔

یو این ادارے میانمار میں متاثرین سیلاب تک امداد پہنچانے میں مصروف عمل

انسانی امداد

اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں میانمار میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب نے پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی کو متاثر کیا ہے اور وسیع رقبے پر چاول کی فصل تباہ ہونے سے غذائی بحران آنے کا اندیشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بتایا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایارواڈی ڈیلٹا میں ہزاروں ایکڑ پر چاول کی فصل سیلاب برد ہو گئی ہے۔ جو علاقے سے اس آفت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں وہاں ہنگامی بنیادوں پر بنیادی ضرورت کی خوراک، پینے کے پانے اور صحت و صفائی کی سہولیات درکار ہیں۔

ملک میں 'ڈبلیو ایف پی' کی نمائندہ شیلا میتھیو نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے باعث مون سون میں چاول کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی آ سکتی ہے اور اس سے چھوٹے کسانوں کا غذائی تحفظ خطرے میں پڑ جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے سیلاب کے اثرات ایارواڈی تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے پورے میانمار میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

میانمار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔
© WFP

60 لاکھ بچوں کو مدد کی ضرورت

ڈبلیو ایف پی نے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ابتدائی طور پر 35 ہزار لوگوں کو مدد دینے کی منصوبہ بندی کی ہے جو پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ انہیں چاول اور مقوی بسکٹ دیے جا رہے ہیں جبکہ ماؤں اور بچوں کو غذائیت مہیا کرنے کے خصوصی اقدامات بھی اس مدد کا حصہ ہیں۔

تین سال قبل میانمار میں فوج کی جانب سے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد حکومتی فوج اور باغی ملیشیاؤں کی لڑائی، بڑھتی ہوئی نقل مکانی اور عدم تحفظ کے باعث ملکی حالات میں متواتر بگاڑ آیا ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے گزشتہ سال دسمبر میں بتایا تھا کہ ملک میں ایک کروڑ 86 لاکھ سے زیادہ آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔ ملک میں جاری بحران میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ نقل مکانی، صحت کی خدمات اور تعلیم میں آنے والے خلل، غذائی عدم تحفظ، جسمانی غذائی قلت، عسکری مقاصد کے لیے جبری بھرتیوں اور ذہنی صحت کے بحران نے 60 لاکھ بچوں کو متاثر کیا ہے۔

15 لاکھ ضرورت مند

'ڈبلیو ایف پی' نو برس کے بعد ایارواڈی ڈیلٹا میں انسانی امداد مہیا کر رہا ہے۔ میانمار میں رواں سال امدادی ضروریات اور اقدامات سے متعلق منصوبے کے مطابق، سیلاب سے پہلے ہی اس خطے میں 15 لاکھ لوگوں یا ایک چوتھائی آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت تھی۔

قبل ازیں اس نے 2015 میں بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب کے بعد اس علاقے میں مدد پہنچائی تھی۔

ادارہ اب تک باگو، کاچ، کیان، میگوے، مینڈالے اور ساگینگ سمیت دیگر علاقوں میں ایک لاکھ 30 ہزار لوگوں کو امداد فراہم کر چکا ہے اور ریاست راخائن میں انسانی بحران کے متاثرین کو امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ ایارواڈی اور باگو کا شمار ایسے علاقوں میں ہوتا ہے جہاں امن ہے۔ تاہم 'ڈبلیو ایف پی' ایسے علاقوں میں بھی سیلاب زدگان کی مدد کر رہا ہے جو لڑائی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔