انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں الکاہل جزائر کی قیادت کی تعریف

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش ٹونگا میں جزائر الکاہل کے فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Kiara Worth
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش ٹونگا میں جزائر الکاہل کے فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔

موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں الکاہل جزائر کی قیادت کی تعریف

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کرہ ارض کو موسمیاتی تبدیلی سے بچانے کی راہ دکھا رہے ہیں اور دنیا کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مزید مدد فراہم کرے۔

ٹونگا میں جزائر الکاہل کے فورم سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دنیا جنگوں، ناانصافی اور سماجی۔معاشی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے اور ایسے وقت میں الکاہل یکجہتی، قوت، ماحولیاتی ذمہ داری اور امن کی علامت بن گیا ہے۔

Tweet URL

دنیا کو ان ممالک سے سیکھنے اور ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمندروں میں رہنے والے بہادر لوگوں، ماہر ماہی گیروں اور نسل در نسل سمندروں کا گہرا علم رکھنے والوں کا خطہ ہے جبکہ دنیا بھر میں لوگ سمندر کو گٹر کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے فورم کے شرکا کو یہ بھی بتایا 2030 تک پائیدار ترقی کے لیے 17 اہداف پر مشتمل عالمی ایجنڈے کی تکمیل تاخیر کا شکار ہے۔

آسٹریلیا سے وینوآتو تک بحرالکاہل میں واقع ممالک پر مشتمل اس فورم کے ارکان کی تعداد 18 ہے۔ اس کے قیام کا مقصد اجتماعی طاقت سے کام لیتے ہوئے 2050 تک تمام رکن ممالک میں لوگوں کی صحت، بہبود اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔

پلاسٹک کی آلودگی

سیکرٹری جنرل نے سطح سمندر میں اضافے کے حوالے سے خطے کے متواتر انتباہ اور اسے معدنی ایندھن سے پاک کرنے کی خاطر ماحول دوست توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی کے لیے اس کے عزم کا تذکرہ بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کی آلودگی سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ گرین ہاؤس گیسیں سمندر کی گرمی، تیزابیت اور اس کی سطح میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان حالات میں الکاہل کے جزائر دنیا کو یہ دکھا رہے ہیں کہ ماحول، کرہ ارض اور سمندر کو کیسے تحفظ دینا ہے۔ خطے کے نوجوان موسمیاتی بحران کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی لے گئے ہیں۔

صنعتی ممالک کی ذمہ داری

ان کا کہنا تھا کہ جہاں بحرالکاہل میں واقع یہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے خلاف بھرپور کوششیں کر رہے ہیں وہیں جی20 ممالک پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور معدنی ایندھن کی متواتر بڑھتی پیداوار اور اس کے استعمال کو روکیں۔ اس خطے کو ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے لیے فوری طور پر مزید مالی مدد، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات لانا ضروری ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت کو بڑھانا ہو گا، ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے قابل عمل پروگرام وضع کرنا ہوں گے اور خصوصی مالیاتی وسائل کی فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ یہ ملک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

الکاہل کا تحفظ، دنیا کا تحفظ

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی رہنما آنے والے برسوں میں موسمیاتی بحران اور پائیدار ترقی کے بارے میں جو فیصلے لیں گے انہی سے انسانیت کا مستقبل طے ہو گا۔ الکاہل کو تحفط دے کر پوری دنیا کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ بحر الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کے لیے اپنی قیادت کو عالمی فورم پر لے جانا اخلاقی و عملی طور پر لازم ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آئندہ ماہ نیویارک میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل عالمی اداروں میں اصلاحات لانے اور اداروں کو دورحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں بامقصد بنانے کا بہترین موقع ہو گی۔

انہوں نے الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک سے کہا کہ وہ موسمیاتی مسئلے پر شدومد سے آواز اٹھائیں کیونکہ دنیا کو ان کے قائدانہ کردار کی ضرورت ہے۔