لبنان اسرائیل تناؤ میں کمی کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی اہمیت ہر زور
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے کہا ہے کہ لبنان۔اسرائیل سرحد پر خطرناک حد تک بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ضروری ہے۔
جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں جاری بات چیت بہت اہم ہے۔ اس سے زندگیوں کو تحفط دینے، تناؤ میں کمی لانے اور فلسطینی اتھارٹی کے تعاون سے اقوام متحدہ کو غزہ کے لوگوں کی اہم ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
ٹور وینزلینڈ نے یہ بات فلسطین کے وزیراعظم محمد مصطفیٰ سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کہی ہے۔ یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج اور لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کی جانب سے ایک دوسرے پر شدید حملے کیے گئے ہیں۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے لبنان سے لاحق خطرے کا تدارک کرنے کے لیے پیشگی کارروائی کی جبکہ حزب اللہ کے مطابق اس نے بڑی تعداد میں ڈرون حملوں کی صورت میں اس کا جواب دیا ہے۔
جنگ بندی کے لیے مذاکرات
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی فریقین کے مابین حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے لبنان اور اسرائیل دونوں کی آبادی اور علاقائی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ حالات کو تباہ کن بگاڑ سے بچانے کے لیے کشیدگی میں فوری کمی لانا ضروری ہے۔
دوسری جانب، امریکہ، مصر اور قطر غزہ میں جامع جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قاہرہ میں حماس اور اسرائیل کے مابین معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حماس نے مذاکرات میں براہ راست شرکت کے بجائے بات چیت میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہی کے لیے اپنا وفد قاہرہ میں بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ اسرائیل غزہ اور مصر کی سرحد کے مابین فلاڈیلفی راہداری اور غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی شاہراہ پر اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے جبکہ حماس اس پر رضامند نہیں۔
قرارداد 1701 پر عملدرآمد کا مطالبہ
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینین ہینز پلیشرٹ اور ملک میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل اور حزب اللہ سے کہا گیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں اور لڑائی بند کر دیں۔
یونیفیل نے کہا ہے کہ لڑائی کا خاتمہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
2006 میں منظور کی گئی اس قرارداد میں دونوں فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی اور طویل مدتی امن تصفیے کی حمایت کریں اور پورے مشرق وسطیٰ میں جامع، منصفانہ اور پائیدار امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔