میانمار خانہ جنگی میں پھنسے روہنگیاؤں کو تحفظ دینے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے میانمار میں تیزی سے بگڑتے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں حکومتی فوج اور باغی ملیشیاؤں کی لڑائی سے بچنے کے لیے نقل مکانی کرنے والے سیکڑوں لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ہزاروں روہنگیا جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش کا رخ کر رہے ہیں جس کے سرحدی راستے بند ہیں۔ ان حالات میں یہ لوگ میانمار کے متحارب عسکری دھڑوں کے مابین پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ ان کے لیے تحفظ کی کوئی راہ نہیں بچی۔ شہریوں پر بلاروک و ٹوک حملے جاری ہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرنے میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔
ریاست راخائن کے شہر بوتھیڈاونگ اور ماؤنگڈا پر قبضے کے لیے حکومت مخالف آراکان آرمی کے حملے سے بچنے کی خاطر گزشتہ چار ماہ کے دوران ہزاروں لوگوں نے ان علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔ ان لوگوں کی بڑی تعداد کا تعلق مسلمان اقلیت روہنگیا سے ہے۔ 5 اگست کو بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب دریائے ناف کے ساتھ ایک حملے میں درجنوں روہنگیا ہلاک ہو گئے تھے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔
روہنگیا بحران کے سات سال
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج اور آراکان آرمی راخائن میں درپیش انسانی المیے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے خلاف حملے فوری بند کریں، جنگ زدہ علاقوں سے جان بچا کر نکلنے والوں کو تحفظ دیں اور انہیں ضروری انسانی امداد تک بلارکاوٹ رسائی فراہم کریں۔
انہوں نے کہا ہے کہ رواں مہینے سات لاکھ روہنگیا کی بنگلہ دیش آمد کو سات سال مکمل ہو جائیں گے جنہوں نے 2017 میں فوج کے مظالم سے بچنے کے لیے نقل مکانی کی تھی۔ تاہم، اب ان لوگوں اور دیگر کو دوبارہ ویسے ہی مظالم کا سامنا ہے۔ مسلح تنازع کے فریقین ان کے خلاف مظالم کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہیں اور یوں ظاہر کر رہے ہیں جیسے ان کے لیے شہریوں کو تحفظ دینا ممکن نہیں ہے۔
سفاکانہ مظالم
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حکومتی فوج اور آراکان آرمی دونوں شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ راخائن کے بیشتر حصوں پر اب آراکان آرمی کا تسلط ہے۔ ایسی کارروائیوں میں ماورائے عدالت ہلاکتیں، لوگوں کے سر قلم کیے جانا، اغوا، عسکری مقاصد کے لیے جبری بھرتیاں، قصبوں اور دیہات پر اندھا دھند بمباری اور آتشزنی شامل ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تمام متحارب فریقین پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں اور عالمی عدالت انصاف کی جانب سے روہنگیا کو تحفظ دینے کے احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
ہیضے سے ہلاکتیں
مصدقہ اطلاعاتی ذرائع کے مطابق، جنگ میں زخمی ہونے والے روہنگیا نسل سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کو علاج معالجہ درکار ہے۔ ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں، جنگ زدہ علاقوں میں یہ لوگ ہیضے کی وبا سے ہلاک ہو رہے ہیں اور انہیں پینے کا صاف پانی اور رہن سہن کے موزوں حالات میسر نہیں ہیں۔
امدادی گوداموں پر حملے کیے جا رہے ہیں اور انہیں جلایا جا رہا ہے۔ تشدد کے باعث بوتھیڈاؤنگ اور ماؤنگڈا کے ہسپتال بند ہو گئے ہیں اور وسیع علاقے میں مواصلاتی نظام منقطع ہو جانے سے انسانی حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ میانمار میں ہونے والے ان مظالم کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ ماضی میں ہونے والے جرائم اور ہولناکیوں کو دہرائے جانے کی کوئی گنجائش نہیں اور انہیں روکنا ناصرف اخلاقی فریضہ بلکہ قانونی ضرورت بھی ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقائی ممالک کی تنظیم 'آسیان' کے تعاون سے روہنگیا اور اس سفاکانہ لڑائی کے دیگر شہری متاثرین کو تحفظ دینے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔