یو این کمیٹی کو پاکستان میں اقلیتوں کی حالت زار پر تشویش
نسلی امتیاز کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی ای آر ڈی) نے پاکستان، ایران، عراق اور برطانیہ سمیت سات ممالک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نسل کی بنیاد پر ہر طرح کی تفریق کے خاتمے کے کنونشن پر کماحقہ عملدرآمد میں ناکام ہیں۔
کمیٹی نے اپنے تازہ ترین اجلاس میں ان ممالک کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سفارشات بھی دی گئی ہیں۔ دیگر تین ممالک میں بیلاروس، بوسنیا ہرزیگووینا اور وینزویلا شامل ہیں۔
پاکستان: اقلیتیں اور ہجوم کا انصاف
کمیٹی نے پاکستان کی صورتحال پر اپنی رپورٹ میں صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں رواں سال مئی سے جون تک توہین مذہب کے الزامات اور ملزموں کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتوں اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تباہی کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے چند ہی لوگوں کو گرفتار کر کے سزائیں دی گئیں اور بقیہ قانونی کارروائی سے بچ نکلے۔
کمیٹی نے توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کے لیے شفاف قانونی کارروائی کے حق پر زور دیتے ہوئے مشتبہ ملزموں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ملک میں مبینہ طور توہین مذہب کا ارتکاب کرنے والوں کو طویل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں پولیس کی حراست میں بھی ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے پاکستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو متشدد انتقامی کارروائیوں سے تحفظ دے، توہین مذہب کے قوانین کو واپس لے، ملزموں کے خلاف شفاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائے اور اس معاملے میں تشدد کے تمام واقعات کی تحقیقات کر کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
کمیٹی نے غیرملکیوں کی ملک سے بیدخلی منصوبے کے تحت بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملک بدر کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جس سے سات لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ ان میں اپریل اور جون 2024 کے درمیانی عرصہ میں ملک سے نکالے جانے والے 101,000 افراد بھی شامل ہیں۔
کمیٹی نے گزشتہ سال ستمبر سے دسمبر تک بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ہراساں کرنے، ان کی جبری ملک بدری اور 28,500 افراد کو قید میں ڈالے جانے کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ ایسے اقدامات کے نتیجے میں بہت سے افغان پناہ گزین خوفزدہ ہو کر پاکستان سے واپس چلے گئے تھے۔
کمیٹی نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بدر کیے جانے والے لوگوں کی صورتحال کا فرداً فرداً جائزہ لے اور استحصال کے سامنے غیرمحفوظ لوگوں کو ملک بدری سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم رکھنے کے اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے پاکستان سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے بارے میں 1951 کے کنونشن اور اس کے اختیاری ضابطے (1967) کی توثیق کرے۔
ایران: مظاہرین پر جبر
کمیٹی نے ایران میں قانون نافذ کرنے والے حکام کی جانب سے نسلی و مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے احتجاجی مظاہرین کے حقوق کی پامالیوں پر بھی سنگین تشویش ظاہر کی ہے۔ اس حوالے سے نومبر 2019، جولائی 2021 اور ستمبر 2022 میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں مظاہرین کے حقوق کو پامال کیا گیا ان کی اکثریتی آبادی نسلی و مذہبی اقلیتوں پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ریاستی کرداروں کی جانب سے حقوق کی پامالیوں کے الزامات کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات اور متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرے۔
کمیٹی نے ان اقلیتوں کی غیرمتناسب طور سے اور ناجائز گرفتاریوں، ہلاکتوں اور انہیں اسلامی ضابطہ فوجداری کے تحت حد سے زیادہ سزائیں دیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عراق: بے گھر افراد سے بد سلوکی
کمیٹی نے عراق میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے شہریوں کے تمام کیمپ رواں سال کے آخر تک بند کیے جانے کے فیصلے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ان لوگوں کو اپنی مرضی کے خلاف ان علاقوں میں آنا پڑے گا جو جنگ میں بری طرح تباہ ہو چکے ہیں۔
اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے عراق کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی یقینی بنائے اور انہیں اپنے علاقوں میں دوبارہ بسنے، بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی میں مدد مہیا کرے۔
کمیٹی نے ملک میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم یا نسل کشی کے خلاف قانونی نظام کی عدم موجودگی کا تذکرہ کرتے ہوئے متاثرین کے نقصان کی عدم تلافی کو باعث تشویش قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں عراق کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم داعش کے مظالم کا نشانہ بننے والی یزیدی متاثرہ خواتین کے حوالے سے بنائے گئے قانون کے تحت متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے فوری اقدامات عمل میں لائے۔ کمیٹی نے ملکی پارلیمان سے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین منظور کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔
برطانیہ: بڑھتی نسل پرستی
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے برطانیہ میں کئی طرح کے پلیٹ فارم پر، سیاست دانوں اور عوامی شخصیات کی جانب سے اظہار نفرت اور غیرملکیوں کی مخالفت کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ اس نے نسلی و مذہبی اقلیتوں، تارکین وطن، پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہش مندلوگوں کے خلاف انتہائی دائیں بازو کے انتہاپسندوں اور سفید فام برتری کے حامیوں اور گروہوں کی جانب سے نسل پرستانہ اقدامات اور تشدد پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں رواں سال جولائی کے اواخر اور اگست کے اوائل میں ہونے والے پرتشدد اقدامات بھی شامل ہیں۔
کمیٹی نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ غیرملکیوں سے نفرت کے اظہار کا خاتمہ کرنے کے جامع اقدامات پر عملدرآمد کرے اور خاص طور پر سیاسی اور عوامی شخصیات کی جانب سے ایسے اظہار کو روکے۔ کمیٹی نے نسلی بنیاد پر نفرت کے جرائم کی مفصل تحقیقات اور ان کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دینے کے ساتھ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔
کمیٹی نے نسلی اقلیتوں بالخصوص بچوں کو پولیس کی جانب سے روکے جانے اور ان کی برہنہ تلاشی کے غیرمتناسب اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ علاوہ ازیں، اس نے سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مہلک طاقت کے حد سے زیادہ استعمال، اس معاملے میں احتساب کے فقدان اور متاثرین کے خاندانوں کی ناکافی مدد پر بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے افریقی النسل لوگ اور دیگر نسلی اقلیتیں غیرمتناسب طور سے متاثر ہوتی ہیں۔ کمیٹی نے پولیس اور فوجداری انصاف کے نظام میں نسل پرستانہ رحجانات کو بھی باعث تشویش قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے خلاف ایسے تمام اقدامات کے حوالے سے شکایات کا ازالہ کرنے کا آزادانہ طریقہ کار وضع کرے اور حقوق کو پامال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں سزا دینے کے موثر اقدامات کرے۔