انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سری لنکا: نئے قوانین سے جمہوریت و شخصی آزادیوں کو خطرہ لاحق

سال 2022 میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کی وجہ سے سری لنکا میں بنیادی ضروریات جیسا کہ گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
© WFP/Arete/Riyal Riffai
سال 2022 میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کی وجہ سے سری لنکا میں بنیادی ضروریات جیسا کہ گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

سری لنکا: نئے قوانین سے جمہوریت و شخصی آزادیوں کو خطرہ لاحق

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ سری لنکا میں نئے یا مجوزہ رجعتی قوانین سے بنیادی آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں اور ماضی میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں دہرائے جانے کا خدشہ ہے۔

سری لنکا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق، ان قوانین سے ملک میں جمہوری توازن کا خاتمہ ہو جائے گا جبکہ سول سوسائٹی اور صحافیوں کو لاحق خطرات بڑھ جائیں گے۔

Tweet URL

'او ایچ سی ایچ آر' کے سربراہ وولکر ترک کا کہنا ہے کہ ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے قبل بنیادی تبدیلیوں کو یقینی بنایا جانا چاہیے جن کا مطالبہ ملک میں معاشرے کے وسیع تر طبقات طویل عرصہ سے کرتے چلے آئے ہیں۔ ان میں احتساب اور مفاہمت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

قانون کا ناجائز استعمال

'او ایچ سی ایچ آر' کی رپورٹ میں 2023 سے اب تک حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے متعدد قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان میں سکیورٹی فورسز کو وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں جبکہ اظہار، رائے اور میل جول کی آزادیوں پر پہلے سے موجود قدغن کو اور بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے ایسا رحجان خاص طور پر خطرناک ہے۔

ملکی حکام انسداد دہشت گردی ایکٹ کو لوگوں کی گرفتاری اور انہیں قید میں رکھنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں حالانکہ انہوں نے اس ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

رپورٹ میں ناجائز حراستوں، گرفتاریوں اور اس دوران تشدد اور اموات کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں 2022 کے معاشی بحران کے اثرات اور بعدازاں حکومت کے کفایت شعارانہ اقدامات کا بھی تذکرہ ہے جن سے خاص طور پر غریب لوگوں اور خواتین کو نقصان ہوا۔

سول سوسائٹی پر جبر

رپورٹ میں طویل عرصہ سے صحافیوں اور سول سوسائٹی کو خوف و جبر کا نشانہ بنانے اور انہیں ہراساں کیے جانے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ ان میں خاص طور پر ایسے صحافی شامل ہیں جو جبری گمشدگیوں، ارضی تنازعات اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرتے ہیں۔ جبراً لاپتہ کیے گئے لوگوں کے خاندانوں کو بھی دھمکایا اور گرفتار کیا جا رہا ہے اور اپنے لاپتہ پیاروں کی یاد منانے والوں کو بھی جبر کا سامنا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ خانہ جنگی کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے جرائم اور حقوق کی پامالیوں بشمول 2019 میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث عناصر کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مفصل تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق، اگر ریاست ایسے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں سزا دینے کے لیے رضامند نہیں یا اس کی اہلیت نہیں رکھتی تو عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ملک میں احتساب ممکن بنانے کی حکمت عملی تیار کرے۔ اس میں بیرون ملک یا عالمگیر دائرہ اختیار کا مناسب استعمال، مبینہ مجرموں کے خلاف پابندیوں کا نفاذ اور بین الاقوامی قانون کی مطابقت سے دیگر دستیاب اقدامات شامل ہیں۔

ریاست کی ناکامی

وولکر ترک کا کہنا ہے کہ معاشی پالیسیوں پر فیصلے کرتے وقت سری لنکا کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے جس میں شہریوں کا مناسب سماجی تحفظ یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ سری لنکا کو قرض دینے والے ممالک کو چاہیے کہ وہ حکومت کو معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے درکار مالی گنجائش مہیا کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2009 میں ختم ہونے والی خانہ جنگی کے دوران اور اس کے بعد کیے گئے جرائم پر احتساب کا فقدان برقرار ہے۔ وولکر ترک کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ منتخب ہونے والی حکومت کو تنازع کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے اور بنیادی آئینی و ادارہ جاتی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ احتساب کے عمل میں خامیوں کو دور کیا جائے اور مفاہمت کے لیے کام شروع ہو سکے۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ متاثرین کی تکالیف اور ماضی و حال میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالیوں میں سکیورٹی فورسز کے کردار کا اعتراف کرنے میں ریاست کی ناکامی نے احتساب کو مزید مشکل بنا دیا ہے اور اس سے حقوق کی مزید پامالیوں کی راہ ہموار ہوئی ہے۔