انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بڑھتی سطح سمندر سے متاثرہ جزیروں کے لیے موسمیاتی انصاف کا مطالبہ

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سیموا کے دورے کے دوران ایک ایک مقامی باشندے کے ساتھ۔
United Nations/Kiara Worth
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سیموا کے دورے کے دوران ایک ایک مقامی باشندے کے ساتھ۔

بڑھتی سطح سمندر سے متاثرہ جزیروں کے لیے موسمیاتی انصاف کا مطالبہ

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سطح سمندر میں اضافے، قرضوں اور ارضی سیاسی تناؤ جیسے خطرات سے دوچار بحر الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کو موسمیاتی انصاف کی فراہمی پر زور دیا ہے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ موسمیاتی انصاف کے لیے ضرورت کے مطابق وسائل مہیا نہیں ہو رہے۔ بحرالکاہل کے چھوٹے ممالک کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات لانا ضروری ہیں۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے یہ بات سیموا کے دورے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اس دوران انہوں نے بڑھتی سطح سمندر اور ساحلی علاقوں کے کٹاؤ سے متاثرہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

انہوں نے بین الاقوامی قرض دہندگان پر زور دیا کہ وہ ان ممالک کو ترقیاتی مقاصد کے لیے شفاف شرائط پر مالی وسائل فراہم کریں۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ جزائر پر مشتمل ممالک کو موسمیاتی بحران سے تحفظ دینے کے لیے ایسے ممالک کو خاطرخواہ وسائل جاری کرنا ہوں گے جو اس بحران کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔

عالمی برادری کے ادھورے وعدے

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کے لوگوں نے موسمیاتی تبدیلی کے متاثرین بننے سے انکار کیا ہے۔ لیکن اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پرعزم منصوبوں پر عملدرآمد ان مالی وسائل کی عدم موجودگی کے باعث معطل ہے جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور یہ ممالک موسمیاتی انصاف یقینی بنانے کے لیے کڑی جدوجہد کر رہے ہیں تاہم اب تک اس کے لیے مطلوبہ وسائل مہیا نہیں ہو سکے۔ امیر ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے وعدے کافی نہیں ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک نے 2021 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مقصد کے لیے طے کردہ سالانہ رقم کو 100 ارب ڈالر سے بڑھا کر دو گنا کر دیں گے تاہم یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہو سکا۔

سیکرٹری جنرل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی کے وعدے پورے کریں۔ رواں سال اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ) میں اس معاملے پر ٹھوس پیش رفت ہونی چاہیے جہاں 2025 کے بعد فراہم کیے جانے والے مالی وسائل سے متعلق ممالک کے وعدے بھی زیرغور آئیں گے۔

ٹوٹتی بنتی حفاظتی دیوار

سیکرٹری جنرل نے صحافیوں سے کہا کہ سیموا کے لوگ موسمیاتی حوادث سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں زمینی کٹاؤ کے باعث لوگ ملک کے اندرونی حصوں کی جانب منتقل ہونے لگے ہیں۔ تاہم انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور ناصرف انہوں نے 2009 میں آنے والے سونامی کے اثرات کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے بلکہ بڑھتی سطح سمندر اور طوفانوں کو بھی جرات مندی سے جھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے میں انہیں ایک ساحلی گاؤں کو سمندر سے تحفظ دینے کے لیے تعمیر کردہ دیوار کو دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ سونامی، بڑھتی ہوئی سطح سمندر اور تندوتیز طوفانوں کے باعث 20 سال میں یہ دیوار تین مرتبہ گری اور دوبارہ تعمیر ہوئی ہے۔

مالیاتی عدم مساوات

موسمیاتی تبدیلی سے متاثر سیموا جیسے بہت سے ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی قرض دہندگان سے انتہائی بلند شرح سود پر مالی وسائل ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بیشتر ملکوں کے لیے ان تک رسائی نہیں ہوتی۔

بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اس تاریخی ساختیاتی عدم مساوات کا خاتمہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے ان ممالک کی قومی آمدنی کا جائزہ لینے کے ایک نئے طریقے پر کام کیا ہے۔ اسے کثیرالجہتی عدم تحفظ کا اشاریہ (ایم وی آئی) بھی کہا جاتا ہے۔ اس اشاریے کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ممالک کو پائیدار ترقی کے لیے درکار مالی وسائل تک رسائی دلائی جا سکتی ہے۔

انتونیو گوتیرش نے عالمی براردی سے کہا کہ جب سیموا جیسے ممالک کا بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے واسطہ پڑے تو 'ایم وی آئی' کی روشنی میں انہیں رعایتی بنیادوں پر مالی وسائل کی فراہمی ہونی چاہیے۔ اس طرح انہیں پائیدار ترقی کے اہداف کو حاسل کرنے اور اپنی آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

ترقیاتی وسائل تک رسائی

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سیموا جیسے ممالک کو خصوصی مالی وسائل کے حصول کے حق سے منسلک 80 ارب ڈالر کے ترقیاتی وسائل تک بھی رسائی ملنی چاہیے۔ یہ وسائل عالمی مالیاتی فنڈ (ـآئی ایم ایف) کی جانب سے کثیرفریقی بینکوں کو قرضے جاری رکھنے کے لیے مہیا کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آمدنی کے ایسے ذرائع سیموا جیسے ممالک کے لیے بہت ضروری ہیں جو کووڈ۔19 کے باعث سیاحتی آمدنی سے محروم ہو گئے تھے اور انہیں عالمی برادری سے بھی کوئی مدد نہیں ملی۔ سیموا کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہےکہ ان ممالک کو ترقیاتی وسائل کی کس قدر ضرورت ہے اور اقوام متحدہ بین الاقوامی برادری سے ان کے اس حق کو تسلیم کرانے کی جدوجہد کبھی ترک نہیں کرےگا۔