قیام امن کے لیے وسائل کی کمی سے دنیا کو 20 ٹریلین ڈالر کا نقصان
قیام امن کے لیے مددگار اقدامات پر اقوام متحدہ کی معاون سیکرٹری جنرل الزبتھ سپیہر نے کہا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اور امن پر سرمایہ کاری میں متواتر کمی آ رہی ہے جبکہ تشدد سے گزشتہ برس ہی دنیا کو 20 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اور قیام امن کے ذریعے تشدد کا سلسلہ ختم کر کے تمام لوگوں کےلیے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
الزبتھ سپیہر نے یہ بات سیکرٹری جنرل کے نئے ایجنڈا برائے امن پر کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہی۔ سیکرٹری جنرل نے اس ایجنڈے کا اعلان جولائی 2023 میں کیا تھا اور اس پر عملدرآمد سے تشدد کے اسباب پر قابو پا کر جنگوں سے ہونے والے انسانی اور معاشی نقصان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
یہ اجلاس رواں ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے صدر سیرالیون نے بلایا تھا اور یہ ایسا موقع ہے جب دنیا بھر میں مسلح تنازعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
بڑھتے ہوئے عسکری اخراجات
انہوں نے کہا کہ تنازعات کی روک تھام اور قیام امن پر اخراجات میں متواتر کمی آ رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر عسکری اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والی مجموعی ترقیاتی امداد میں قیام امن کے لیے دیے گئے وسائل بہت معمولی مقدار میں ہوتے ہیں۔
گزشتہ برس اس میں معاشی تعاون و ترقی کے ادارے (او ای سی ڈی) کے رکن ممالک کا حصہ 10 فیصد تھا جو کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس مقصد کے لیے دیے گئے مالی وسائل کی کم ترین مقدار ہے۔ دوسری جانب گزشتہ سال جنگوں اور تشدد سے دنیا کو تقریباً 20 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ عالمگیر جی ڈی پی کا 13.5 فیصد بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی امداد کو پائیدار امن پر خرچ کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے مابین شراکتوں کی ضرورت ہے۔
پائیدار امن کے لیے اقدامات
الزبتھ سپیہر نے کہا کہ قومی سطح پر رضاکارانہ کوششوں کے فروغ، ہم آہنگی یقینی بنانے اور شراکتوں کو بہتر کرنے پر سرمایہ کاری سے تنازعات کی روک تھام اور قیام امن کے اہداف کا حصول آسان بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن کے نئے ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر ذمہ داری لینا بہت اہم ہے۔ ایجنڈے میں متنوع آوازوں کو ساتھ ملانے اور معاشرےکے تمام طبقات کی ضروریات اور شراکت پر بھی زور دیا گیا ہے جس سے مزید پائیدار امن کے قیام میں مدد ملتی ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے وسطی جمہوریہ افریقہ کی مثال دی جہاں اقوام متحدہ کے فنڈ برائے قیام امن کے ذریعے ایسے پروگراموں میں مدد دی گئی جن سے مقامی سطح پر خواتین ثالثوں کی حیثیت مضبوط ہوئی اور اس طرح تنازعات کی روک تھام اور پائیدار امن میں مدد مل رہی ہے۔
تنازعات کی روک تھام کا جامع طریقہ
انہوں نے کہا کہ ایجنڈے میں تشدد کی علامات ہی نہیں بلکہ اس کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ یقینی بنانا معاشروں کو بحران سے بچانے کا بہترین طریقہ ہے کہ وہ مشمولہ اور پائیدار ترقی اور مشمولہ حکمرانی کے ذریعے مضبوط ہوں۔
اسی لیے امن کے نئے ایجنڈے میں پائیدار ترقی کے ایجنڈا برائے 2030 پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے اور عدم مساوات، غربت اور سماجی اخراج سے نمٹنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
شراکتیں اور وسائل
الزبتھ سپیہر نے کہا کہ قیام امن کے معاملے میں علاقائی اور ذیلی علاقائی کرداروں کے ساتھ شراکتوں میں متواتر اضافہ ہونا ضروری ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور افریقن یونین کی امن و سلامتی کونسل (اے یو پی ایس سی) اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے قیام امن اور 'اے یو پی ایس سی' کے مابین متواتر رابطوں کا تذکرہ بھی کیا۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ رابطوں اور اقدامات کو آگے بڑھانے اور ان کے نتائج پر نظر رکھنے کے لیے مزید بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔
سلامتی کے شعبے میں اصلاحات
سیاسی امور، قیام امن و سلامتی کے لیے افریقن یونین کے کمشنر بینکولے ادیوئے نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل کا نیا ایجنڈا برائے امن عالمگیر امن و سلامتی کے ڈھانچے کو نئے سرے سے مضبوط بنانے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس میں تنازعات کی روک تھام پر خاص زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے سلامتی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت کو واضح کیا اور بتایا کہ امن کی جانب گامزن افریقن یونین کے رکن ممالک کو براہ راست مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
یونین نے تخفیف اسلحہ، مسلح گروہوں کا خاتمہ کرنے اور سابق جنگجوؤں کو امن کی راہ اختیار کرنے والے ممالک میں ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے کے عمل میں شامل کرنے کے لیے رہنمائی بھی تیار کی ہے۔
اس معاملے میں افریقن یونین اسمبلی کی منظور کردہ نئی پالیسی میں مسلح تنازعات کے بعد تعمیرنو اور ترقی کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور قیام امن کے لیے فیصلہ سازی میں نوجوانوں کو شامل کرنا، بچوں کو تحفظ دینا اور ماحولیاتی استحکام بھی اس کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعداز تنازعات تعمیر نو کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں افریقن یونین کا مرکز اب مکمل طور سے فعال ہے اور اس سے قیام امن کے ضمن میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
سیرالیون کا سبق
سیرالیون میں خودمختار کمیشن برائے امن و قومی ہم آہنگی (آئی سی پی اینسی) کی ایگزیکٹو سیکرٹری ہاوا سامائی نے کہا کہ 22 سال پہلے ملک کا سفاکانہ خانہ جنگی سے امن کی جانب سفر دوسروں کے لیے امید کی کرن اور عزم، بات چیت اور قیام امن کی مشمولہ کوششوں کا ثبوت ہے۔
سیرالیون میں یہ کمیشن 2020 میں قائم کیا گیا تھا جو کہ تنازعات کی روک تھام، انہیں سنبھالنے اور ان میں کمی لانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اس کمیشن کے زیراہتمام ملک میں امن اتحاد قائم کیے گئے، تنازعات کے بارے میں بروقت اطلاعات دینے کا اہتمام کیا گیا اور ملک کے تمام 16 اضلاع میں ان کی روک تھام کے طریقہ کار لاگو کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کی مثال سے یہ اہم بات سامنے آتی ہے کہ مقامی لوگوں کی مدد سے تنازعات کو شدت پکڑنے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔