انسانی حقوق ماہر کی افغانستان داخلے پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہر رچرڈ بینیٹ نے ملک میں اپنے داخلے پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے بنیادی حقوق پر جبر برقرار رکھنے کا عندیہ تشویش ناک ہے۔
رچرڈ بینیٹ نے کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان کے حکمرانوں کے ساتھ شفاف طور سے رابطہ رکھا ہے اور وہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا موثر اندازہ لگانے اور جہاں ضرورت ہو اس میں بہتری لانے کے لیے اپنی سفارشات دیتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدہ طور سے انجام دیتے ہیں اور ملک کا دورہ کرنے کے لیے رضامند اور دستیاب ہیں۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ ان پر پابندی کا فیصلہ واپس لیں۔
اطلاعات کے مطابق، افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے گزشتہ روز رچرڈ بینیٹ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے تقریباً ایک سال سے افغانستان کا دورہ نہیں کیا۔
افغان عوام سے وابستگی
انہوں نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اور ملک سے باہر افغان لوگوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے رابطہ قائم رکھیں گے، انسانی حقوق کی پامالیوں کو سامنے لاتے رہیں گے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز بھی دیتے رہیں گے۔
انہوں نے افغانستان کے لوگوں سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کو مستحکم، مشمولہ اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں جو خود بھی پرامن ہو اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی امن سے رہے۔
ماہرین و خصوصی اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔