میانمار: فوج اور مسلح گروہوں میں شدید لڑائی، لوگ نقل مکانی پر مجبور
میانمار کے تین علاقوں میں حکومتی افواج اور اس کی مخالف ملیشیاؤں میں جاری لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن کے مطابق ریاست راخائن میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اور لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ واقع شہر ماؤنگ ڈا میں حالات خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔
5 اگست کو اس شہر کے تین علاقوں سے تقریباً 20 ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی جبکہ مزید بڑی تعداد میں لوگ سرحد پار جا رہے ہیں۔
شمالی ریاست شان میں بھی جون کے بعد لڑائی میں شدت آ گئی ہے جس کے نتیجے میں چار علاقوں سے 33 ہزار لوگوں نے انخلا کیا ہے۔ان علاقوں میں شہریوں کی ہلاکتوں، لوگوں کے گھروں اور دیگر عمارتوں کی تباہی سے متعلق اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔
امدادی وسائل کی قلت
جون کے اواخر سے خطے میں شروع ہونے والی مون سون کی شدید بارشوں نے میانمار میں پہلے سے بگڑے انسانی حالات کو مزید مخدوش کر دیا ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 393,000 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
رواں سال میانمار بھر میں کم از کم 53 لاکھ لوگوں کے لیے درکار امدادی مالی وسائل میں سے اب تک 23 فیصد ہی مہیا ہو سکے ہیں جن کی مقدار تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مشکل حالات کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں ملک کے 21 لاکھ لوگوں کو انسانی امداد فراہم کی ہے۔ اس مدد میں خوراک، غذائیت طبی سازوسامان، پانی اور صحت و صفائی کے لیے درکار اشیا شامل ہے۔