تارکین وطن میں ایم پاکس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے وسائل کی اپیل
اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے تارکین وطن کو ایم پاکس سے تحفظ دینے کے لیے ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر کے مالی وسائل کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاخِ افریقہ اور براعظم کے مشرقی و جنوبی حصوں میں اس بیماری کا پھیلاؤ نقل مکانی کرنے والوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔
'آئی او ایم' کا کہنا ہے کہ تارکین وطن اور قدرتی آفات یا جنگوں سے بچنے کے لیے ایک سے دوسری جگہ جانے پر مجبور لوگوں کو یہ بیماری لاحق ہونے کے خطرات دوسروں سے کہیں زیادہ ہیں۔
ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ افریقہ کے ان تینوں علاقوں میں ایم پاکس کے پھیلاؤ سے نقل مکانی کرنے والوں کو لاحق خطرے کی شدت کو عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو تحفط دینے اور خطے میں اس بیماری کو وبا کی صورت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
تارکین وطن کا گڑھ
'آئی او ایم' کے طلب کردہ مالی وسائل سے افریقہ کے 13 ممالک میں ایم پاکس کی روک تھام، اس پر قابو پانے اور بالخصوص سرحدی مقامات پر اس سے نمٹنے کا کام لیا جائے گا۔ ان میں برونڈی، جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی)، ایسواٹینی (سوازی لینڈ)، کینیا، ملاوی، موزمبیق، روانڈا، جنوبی افریقہ، جنوبی سوڈان، تنزانیہ، یوگنڈا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔ ایسے اقدامات میں تارکین وطن اور ان کے میزبان ممالک میں اور اندرون ملک بے گھر افراد کے لیے بیماری سے آگاہی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
ادارے نے کہا ہے کہ ایم پاکس ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے افریقی خطے کے لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ شاخ افریقہ اور براعظم کے مشرقی و جنوبی علاقوں میں ایک کروڑ 22 لاکھ بین الاقوامی مہاجرین موجود ہیں جو افریقہ کے تمام مہاجرین کی قریباً نصف تعداد ہے۔
'آئی او ایم' نے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جاری کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 8 اگست تک افریقہ کے 12 ممالک میں ایم پاکس کا پھیلاؤ دیکھنے میں آیا تھا جن میں سے چھ انہی خطوں میں واقع ہیں۔ جولائی تک کینیا، برونڈی، روانڈا اور یوگنڈا میں بھی یہ بیماری پھیل چکی تھی جو اس سے پہلے ایم پاکس کی وبا سے محفوظ تھے۔ ان علاقوں میں سرحد پار نقل مکانی بیماری کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب ہے۔
'آئی او ایم' کے اقدامات
'آئی او ایم' نے کہا ہےکہ اس خطے میں ناصرف ایسے ممالک واقع ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں تارکین وطن آتے ہیں بلکہ یہاں کئی ممالک ان کی عبوری اور حتمی منزل بھی ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں ایم پاکس کی روک تھام کی کوششوں میں رکاوٹ پیش آ سکتی ہے۔
ادارہ ان ممالک میں طبی عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ایسے علاقوں کی نشاندہی کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے جہاں لوگوں کو اس بیماری سے لاحق خطرات دوسروں سے زیادہ ہیں۔ اس طرح مرض کی موثر نگرانی اور اس کا ایک سے دوسرے ملک میں پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔ 'آئی او ایم' کا کہنا ہے کہ تارکین وطن اور اندرون ملک بے گھر ہونے والے ایسے لوگوں کو علاج معالجے کی فراہمی بہت ضروری ہے جو اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔
عالمگیر صحت کے لیے خطرہ
'آئی او ایم' نے ایم پاکس سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی اپیل ایسے موقع پر کی ہےجب 'ڈبلیو ایچ او' اس بیماری کو عالمگیر صحت عامہ کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے ایک ہفتہ قبل جمہوریہ کانگو سے ایم پاکس وائرس کی قِسم 'ون بی' کے پھیلاؤ کی تصدیق کی تھی جو زیادہ تر جنسی روابط کے نتیجے میں پھیلتا ہے۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے نتیجے میں جسم پر بننے والے چھالوں کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں 15 ہزار سے زیادہ لوگ اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے اب تک 537 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ایم پاکس کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔
ایم پاکس کے بارے میں یو این نیوز کا تفصیلی مضمون یہاں دیکھیے۔