لبنان: سرحدی کشیدگی اور وسائل کی کمی سے بحران کی شدت میں اضافہ
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار عمران رضا نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سرحد پر کشیدگی میں کمی لانے اور شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے سیاسی و سفارتی بات چیت کی اشد ضرورت ہے جس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی کے باعث لبنان میں لوگوں کے روزگار ختم ہو رہے ہیں اور ان کی پانی، بجلی اور طبی خدمات تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات میں بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
رواں سال ملک میں 37 لاکھ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ان میں حالیہ بحران سے متاثرہ لبنانی شہریوں کے علاوہ شامی، فلسطینی اور دیگر ممالک کے پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تنازع نے سیاسی، معاشی و دفاعی مسائل سے نمٹنے کے لیے ریاست کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔
ایک ہفتے میں 130 ہلاکتیں
اکتوبر میں اسرائیل پر حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کے حملوں اور پھر غزہ پر اسرائیل کی جوابی جنگ کے بعد لبنان اور اسرائیل کی سرحد 'بلیو لائن' کے آر پار تقریباً دو لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
عمران رضا نے کہا ہے کہ سرحدی علاقوں کے قریب رہنے والے مزید ڈیڑھ لاکھ لوگ روزانہ گولہ باری اور فضائی حملوں کا سامنا کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے لبنان میں 130 شہریوں کی ہلاکت ہوئی جن میں طبی عملے کے 21 ارکان اور تین صحافی بھی شامل ہیں۔
مشکل صورتحال
رابطہ کار نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ سے پہلے بھی لبنان کے حالات اچھے نہیں تھے جہاں طویل سیاسی، مالی اور سماجی۔معاشی بحران نے بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیاں تنگ کر رکھی تھیں۔ موجودہ حالات نے ان کی مشکلات کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔
امدادی ادارے عدم تحفظ، رسائی کے مسائل اور ناکافی وسائل کے باوجود نقل مکانی کرنے والے لوگوں اور محاذ جنگ کے قریب رہنے والوں کو ہرممکن مدد پہنچا رہے ہیں۔
امدادی وسائل کی ضرورت
عمران رضا نے کہا ہے کہ رواں سال لبنان کے لیے درکار امدادی وسائل کا 25 فیصد ہی مہیا ہو پایا ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں کو رواں سال 10 لاکھ لوگوں کے لیے امداد درکار ہے جن میں جنوبی لبنان میں کشیدگی سے متاثرہ ایک لاکھ 80 ہزار افراد بھی شامل ہیں۔
مشکل حالات سے نمٹنے کی خاطر خوراک، پانی، ادویات، صحت وصفائی اور پناہ کا سامان جمع کرنے کے لیے تین کروڑ 64 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جنگ سے براہ راست متاثر ہونے والے دو لاکھ 90 ہزار لوگوں کی اگست تا دسمبر ممکنہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مجموعی طور پر 11 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔ تاہم، اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو یہ ضروریات بھی بڑھ جائیں گی۔