میانمار: سیلاب اور خانہ جنگی میں تیزی سے انسانی بحران میں شدت
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ میانمار میں شدید بارشوں اور سیلاب نے ملک میں جاری لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین انسانی بحران میں اضافہ کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے اطلاع دی ہے کہ دریاؤں میں آنے والے سیلاب کے باعث بہت سے قصبے اور دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ اس صورتحال میں تقریباً چار لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، سڑکوں اور ریلوے لائنوں سمیت اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور بڑے رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جس سے روزگار اور تحفظ خوراک کو خطرات لاحق ہیں۔
ملک میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کے دفتر نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے باعث بہت سے لوگوں کو اپنی بقا کی جدوجہد کا سامنا ہے۔ ان حالات میں امدادی کارکن اور پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے لوگوں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں جو ضرورت مند آبادیوں کی مدد کے لیے انتھک کام کر رہے ہیں۔
نصف آبادی کو امداد کی ضروت
میانمار میں تقریباً 33 لاکھ لوگ اندرون ملک بے گھر ہیں جن میں بیشتر کو مناسب پناہ میسر نہیں ہے۔ ساگینگ نامی جنگ زدہ صوبے میں 12 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ میانمار کی فوج نے اس علاقے میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کے خلاف نئی کارروائی شروع کی ہے جس کے بعد رواں ماہ ہی قریباً 10 ہزار لوگوں کو انخلا کرنا پڑا ہے۔
ملک میں آبادی کے اعتبار سے تیسرے سب سے بڑے صوبے مینڈالے اور اس کے دارالحکومت مینڈالے سٹی سے بھی ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ ملک بھر میں ایک کروڑ 86 لاکھ لوگوں یا ملکی آبادی کے نصف حصے کو ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی ضرورت ہے جس میں 60 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔
ریاست راخائن میں بھی لڑائی میں شدت آ گئی ہے جہاں 2017 میں فوج نے مسلمان روہنگیا آبادی کے خلاف کارروائی میں ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ لاکھوں لوگ جان بچانے کے لیے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں ہجرت کر گئے تھے۔
مہلک بیماریوں کا پھیلاؤ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اطلاع دی ہے کہ میانمار کے دارالحکومت یانگون سمیت متعدد شہروں میں ہیضہ اور کھڑے پانی سے لاحق ہونے والے سنگین امراض (اے ڈبلیو ڈی) پھیل رہے ہیں۔ یانگون میں 2,400 سے زیادہ لوگ ان بیماریوں کا شکار ہو کر ہسپتالوں میں آئے ہیں۔
ریاست راخائن میں ہیضے کے باعث بہت سے لوگ جسم میں پانی کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں۔ 'ڈبلیو ایچ او' نے یانگون میں اپنی طبی شراکت داروں کو ہیضے کی روک تھام سے متعلق تربیت دینے کی پیشکش کی ہے۔ علاوہ ازیں ادارے نے جسم میں نمکیات کی کمی دور کرنے کی ادویات اور بلیچنگ پاؤڈر کے 201 ڈرم بھی سول سوسائٹی اور طبی حکام کو بھیجے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں مخدوش طبی حالات کے حوالے سے درست معلومات دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے موثر منصوبہ بندی اور بیماریوں کی روک تھام میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔