انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں میں افسوسناک اضافہ

غزہ کے علاقے نصیرات میں UNRWA کا ایک کارکن نیلی بنیان میں فلسطینی بچوں کے ایک گروپ کو تسلی دے رہا ہے۔
UNRWA فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کا عملہ غزہ میں حالیہ بحران سے متاثرہ خاندانوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں میں افسوسناک اضافہ

انسانی امداد

دنیا بھر میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی تعداد ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ ایسے واقعات پر موثر احتساب کو یقینی بنائے۔

امدادی کارکنوں کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کی قائم مقام سیکرٹری جنرل برائے امدادی امور جوئس مسویا نے کہا ہے کہ امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد عام ہونا اور اس پر عدم احتساب ناقابل قبول ہے اور یہ صورت حال ہر جگہ امدادی کاموں کے لیے نہایت خطرناک ہے۔

انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کی پامالیوں کو روکیں اور ان وحشیانہ جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو حاصل کھلی چھوٹ کا خاتمہ کریں۔

امدادی کارکنوں کی بڑھتی ہلاکتیں

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس امدادی کارکنوں کے حوالے سے مہلک ترین سال تھا جب 33 ممالک میں 280 امدادی کارکن ہلاک ہوئے۔

یہ 2022 میں ایسے ہی واقعات کے مقابلے میں 137 گنا بڑی تعداد ہے جب مختلف ممالک میں 118 امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

رواں سال بھی اس حوالے سے انتہائی خطرناک رہا ہے اور 7 اگست تک 172 امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا جا چکا تھا۔

غزہ کی صورتحال

'اوچا' نے کہا ہے کہ گزشتہ برس امدادی کارکنوں کی نصف سے زیادہ ہلاکتیں غزہ کی جنگ کے ابتدائی تین مہینوں (اکتوبر تا دسمبر) میں ہوئیں۔ یہ علاقہ امدادی کارکنوں کے لیے خطرناک ترین جگہ بن چکا ہے۔

اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں 280 سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں جن کی بڑی تعداد فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے لیے کام کرتی تھی۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال اور رواں برس سوڈان اور جنوبی سوڈان میں بھی بڑی تعداد میں امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسے مسلح تنازعات میں ہلاک ہونے والے بیشتر امدادی کارکنوں کا تعلق انہی ممالک سے تھا۔

یمن میں اقوام متحدہ اور غیرسرکاری اداروں کے لیے کام کرنے والے بہت سے امدادی کارکن ناجائز گرفتاریوں اور قید کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔

'اقدام برائے انسانیت'

امدادی کارکنوں کا عالمی دن ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 2003 میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر بم حملے میں ملک کے لیے ادارے کے خصوصی نمائندی سرجیو ویریا ڈی میلو سمیت 22 امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

ہر سال اس دن پر بحرانوں میں پھنسے لوگوں کی بقا، بہبود اور وقار کے لیے کی جانے والی کوششوں اور امدادی کارکنوں کی سلامتی اور تحفظ پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

رواں سال اس دن #ActForHumanity کے عنوان سے ایک خصوصی مہم بھی شروع کی گئی ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں جنگی فریقین اور عالمی رہنماؤں پر جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں سمیت شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے زور دینا ہے۔

تحفظ کا مطالبہ

دنیا بھر سے امدادی اداروں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو خط لکھا ہے کہ وہ تمام امدادی کارکنوں، ان کے دفاتر اور کام کی دیگر جگہوں اور اثاثوں کو تحفظ دینے کی کوششوں میں اضافہ کریں۔ رواں سال مئی میں منظور کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2730 میں بھی یہی بات کہی گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ امدادی کارکنوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور بین الاقوامی انسانی قانون کو پامال کرنے والوں کا محاسبہ کیا جانا ضروری ہے۔ انسانی بحرانوں میں لوگوں کو مدد دینے کی کوششیں جاری رہیں گی تاہم موجودہ صورتحال امدادی عملے، رضاکاروں اور ان سے مدد لینے والے شہریوں کے تحفظ کی خاطر متحدہ قدم اٹھانے کا تقاضا کرتی ہے۔