انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: چاڈ کے ساتھ اہم امدادی راہداری کھولنے کا خیرمقدم

مغربی ڈارفر میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔
© WFP
مغربی ڈارفر میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔

سوڈان: چاڈ کے ساتھ اہم امدادی راہداری کھولنے کا خیرمقدم

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سوڈان کے حکام کی جانب سے چاڈ کے ساتھ اہم سرحدی راستہ کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس سے ملک میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی آسان ہو جائے گی۔

سوڈان اور چاڈ کے مابین ادرے کی سرحدی گزرگاہ ایک سال سے بند تھی۔ یہ سوڈان کے جنگ زدہ اور شدید درجے کی بھوک کا شکار علاقے ڈارفر میں انسانی امداد پہنچانے کا براہ راست اور موثر ترین راستہ ہے۔

غذائی تحفظ کے ماہرین نے حالیہ دنوں کہا ہے کہ سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین جاری لڑائی کے باعث شمالی ڈارفر کے متعدد حصوں میں قحط پھیل گیا ہے۔ ریاستی دارالحکومت الفاشر کے قریب زم زم پناہ گزین کیمپ میں صورتحال خاص طور پر خراب ہے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

امداد کی بلارکاوٹ رسائی کا مطالبہ

سیکرٹری جنرل نے اپنے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سوڈان میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے ٹھوس اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون اور قبل ازیں طے شدہ معاہدوں کے تحت ایسا کرنا سوڈان کے تمام متحارب فریقین کی ذمہ داری بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں کو خاص طور پر ڈارفر بھر میں تمام ضرورت مند لوگوں تک مکمل، محفوظ اور بلارکاوٹ رسائی ملنی چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سوڈان میں جنگ کو ختم کرانے اور وہاں کے لوگوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ کام کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

قحط زدگان کے لیے امید کی کرن

سوڈان کے حکام نے رواں سال فروری میں ادرے کی سرحدی گزرگاہ سے امدادی قافلوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد چاڈ سے امداد ٹائن کے واحد راستے سے آ رہی تھی۔

ایک روز قبل عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) سمیت اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی ادرے کا راستہ کھولے جانے کا خیرمقدم کیا تھا۔

اب 'ڈبلیو ایف پی' کے لیے ڈارفر، کردفان، خرطوم اور الجزیرہ ریاستوں کے 14 قحط زدہ علاقوں میں امداد پہنچانا اور اس میں اضافہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ ادارہ رواں سال کے آخر تک ملک میں 84 لاکھ جنگ زدہ لوگوں کو مدد پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔