انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: امدادی سرگرمیوں کے لیے سرحدی گزرگاہ ادرے کھولنے کا خیرمقدم

سوڈان میں بے گھر ہونے والے افراد زم زم کیمپ میں کھانا تقسیم ہونے کے منتظر ہیں (فائل فوٹو)۔
Zam Zam ERR
سوڈان میں بے گھر ہونے والے افراد زم زم کیمپ میں کھانا تقسیم ہونے کے منتظر ہیں (فائل فوٹو)۔

سوڈان: امدادی سرگرمیوں کے لیے سرحدی گزرگاہ ادرے کھولنے کا خیرمقدم

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے سوڈان کی حکام کی جانب سے چاڈ کے ساتھ ادرے کا سرحدی راستہ دوبارہ کھولے جانے کی خبر کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس راستے سے بڑے پیمانے پر انسانی امداد کو سوڈان پہنچانے میں مدد ملے گی جہاں لاکھوں لوگ قحط کی زد میں ہیں۔

یہ امداد اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے ذریعے جنگ زدہ ملک میں لائی جائے گی اور اسے ڈارفر، کردفان، خرطوم اور الجزیرہ ریاستوں میں واقع 14 علاقوں کی جانب بھیجا جائے گا جہاں قحط پھیل گیا ہے۔

Tweet URL

85 لاکھ لوگوں کی مدد کا منصوبہ

سوڈان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی ترجمان لینی کنزلی نے کہا ہے کہ سرحد کھولے جانے کے بعد 6,000 میٹرک ٹن خوراک اور غذائیت بھری اشیا کو لے کر دو قافلے سوڈان جانے کے لیے تیار ہیں۔ اس خوراک سے تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

دو ہفتے پہلے شمالی ڈارفر کے علاقے زم زم میں قحط پھیلنے کی تصدیق ہو گئی تھی جہاں اس ریاست میں لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے چار لاکھ سے زیادہ لوگ مقیم ہیں۔

انہوں نے بتایا ہے کہ 'ڈبلیو ایف پی' رواں سال کے آخر تک 85 لاکھ لوگوں کو غذائی مدد فراہم کرے گا۔

سوڈان کی سرکاری فوج اور اس کی مخالف ملیشیا 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کے مابین 16 ماہ قبل شروع ہونے والی لڑائی کے باعث ملک میں خوراک کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے، اہم منڈیاں تباہ ہو گئی ہیں اور لوگ مدد سے محروم ہو گئے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ لڑائی کے ساتھ شدید بارشوں کے باعث امداد کی فراہمی کے اقدامات کو شدید دھچکا پہنچا ہے کیونکہ بہت سے علاقوں میں امدادی قافلے اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکے۔ 4,800 میٹرک ٹن خوراک سے لدے 50 سے زیادہ ٹرک ملک بھر میں مختلف مقامات پر پھنسے ہیں۔ اس خوراک سے تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کی ضروریات پوری کی جانا تھیں۔

بھوک کے سنگین اثرات

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملک میں جنگ سے تباہ حال لوگوں کو غذائیت بھری خوراک درکار ہے۔ غذائی قلت کا شکار اور کمزور قوت مدافعت والے فرد میں معمولی سی بیماری بھی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں بچوں کے لیے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ کے باعث ملک میں طبی نظام کمزور پڑ گیا ہے جہاں 80 فیصد ہسپتال غیرفعال ہیں۔ لوگ بنیادی اور ضروری علاج معالجے اور ادویات کی عدم موجودگی کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ کئی ریاستوں میں یرقان، خسرہ، ملیریا، ڈینگی اور سرسام پھیلنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

قابل انسداد المیہ

ادرے کا سرحدی راستہ کھولنے کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب سوڈان کے مختلف علاقوں میں لڑائی بدستور جاری ہے۔ بدھ کو العبید شہر میں ایک سکول اور بازار پر بمباری میں کم از کم پانچ لڑکیاں ہلاک اور 20 بچے زخمی ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں حالات سنگین تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں لاکھوں لوگ قابل انسداد بیماریوں، بھوک، سیلاب اور تشدد کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں جبکہ دنیا اس صورتحال کو روکنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر رہی۔

'آئی او ایم' کے مطابق، ملک میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ لوگ تحفظ کی تلاش میں ہیں جن میں بیشتر دو یا اس سے زیادہ مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان میں 97 فیصد لوگ ایسے مقامات پر مقیم ہیں جہاں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال شدید یا بدترین درجے کو چھو رہی ہے۔