انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مقبوضہ مغربی فلسطینی علاقے میں آبادکاروں کے بڑھتے مظالم کی کڑی مذمت

مقبوضہ مغربی کنارے کا علاقہ جنین جو اسرائیلی کارروائیوں کا مسلسل نشانہ رہتا ہے۔
© UNICEF/Alaa Badarneh
مقبوضہ مغربی کنارے کا علاقہ جنین جو اسرائیلی کارروائیوں کا مسلسل نشانہ رہتا ہے۔

مقبوضہ مغربی فلسطینی علاقے میں آبادکاروں کے بڑھتے مظالم کی کڑی مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے مقبوضہ مغربی علاقے میں فلسطینی گاؤں پر ہلاکت خیز حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

'او ایچ سی ایچ آر' کی ترجمان روینہ شمداسانی نے حملے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی آبادیوں کے خلاف سالہا سال سے جاری تشدد کا حصہ اور اسرائیل کی قبضے کی پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہے۔

Tweet URL

جمعرات کو نابلوس کے قریب واقع گاؤں جِت پر اس حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور درجن بھر زخمی ہو گئے تھے۔

آبادکاروں کا بے دھڑک تشدد

ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارہ کئی سال سے مغربی کنارے میں فلسطینی آبادیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے بے دھڑک حملوں کی اطلاعات دیتا آیا ہے۔ اس صورتحال کو روکنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ان حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنا ہو گا۔

روینہ شمداسانی کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کی اب تک بہت کم تحقیقات ہوئی ہیں اور بیشتر میں نہ تو متاثرین کو انصاف ملا اور نہ ہی مجرموں کو سزائیں دی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی سکیورٹی فورسز بھی ان حملوں میں آبادکاروں کے ساتھ ہوتی ہیں جو انہیں اسلحہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح ایسے واقعات کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔

'او ایچ سی ایچ آر' کے مطابق 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اب تک 609 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 146 بچے، آٹھ خواتین اور چار ایسے افراد بھی شامل ہیں جو جسمانی طور پر معذور تھے۔

غزہ میں نقل مکانی کا بحران

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے لوگوں کو انخلا کے نئے احکامات دیے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور لوگوں کی تکالیف میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں دیر البلح، مغربی خان یونس اور غزہ شہر کے مغربی علاقے سے لوگوں کو اپنے ٹھکانے چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بتایا ہے کہ لوگوں کو ایسے علاقوں سے بھی انخلا کے لیے کہا گیا ہے جنہیں قبل ازیں اسرائیل کی فوج نے 'محفوظ' قرار دیا تھا اور وہاں بے گھر فلسطینی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

انسانی امداد کی قلت

اقوام متحدہ کی امدادی ٹیموں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں لوگوں کو بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ لڑائی اور بار بار انخلا کے احکامات کے باعث فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے۔

غزہ میں آباد فلسطینیوں کو حالیہ جنگ میں محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں بارہا نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے۔
© UNRWA
غزہ میں آباد فلسطینیوں کو حالیہ جنگ میں محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں بارہا نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی مناسب طریقے سے تدفین بھی نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ خود موت، تکالیف، بھوک اور پیاس کا سامنا کر رہے ہیں اور ایسے میں ان کے پاس اپنے عزیزوں کی موت کا غم منانے کا وقت بھی نہیں ہوتا کیونکہ انہیں ہر دن اپنی بقا کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

انہیں کپڑے، لکڑی کے ٹکڑوں اور گتوں سے پناہ گاہیں تعمیر کرنا ہوتی ہیں۔ تحفظ کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث رات کے وقت بچوں کو حشرات اور چوہوں سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ بازاروں میں خوراک کی قلت ہے اور کھانے پینے کی دستیاب اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ علاقے میں صفائی کا انتظام نہ ہونے کے باعث جلدی بیماریاں عام ہیں جن سے بچوں کو خاص طور پر سنگین خطرات لاحق ہیں۔