انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش: عبوری حکومت سے اصلاحات اور شہری آزادیوں کی بحالی کا مطالبہ

حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کم از کم 32 بچوں سمیت 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔
UN Bangladesh/Mithu
حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کم از کم 32 بچوں سمیت 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش: عبوری حکومت سے اصلاحات اور شہری آزادیوں کی بحالی کا مطالبہ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بنگلہ دیش میں حقوق کی پامالیوں اور تشدد کا ارتکاب کرنے والوں کے احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو انسانی حقوق اور قانون کی بنیاد پر مشمولہ حکمرانی قائم کرنے کے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملکی اداروں میں اصلاحات لائے، بنیادی و شہری آزادیوں کو بحال کرے اور تمام لوگوں کو مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کا موقع دے۔

Tweet URL

ہائی کمشنر نے یہ بات اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے ملک میں احتجاج اور بے چینی کے بارے میں ابتدائی رپورٹ کے اجرا پر کہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے حقوق کی پامالیوں پر احتساب اور متاثرین کے لیے انصاف ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کی تمام پامالیوں کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات پہلا قدم ہونا چاہیے۔

تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ

بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں کے لیے کوٹہ سسٹم کے خلاف وسط جون سے شروع ہونے والے طلبہ کے پرامن مظاہروں نے اس وقت پرتشدد صورت اختیار کر لی تھی جب سکیورٹی فورسز نے احتجاج کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اس تشدد میں کم از کم 32 بچوں سمیت 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

'او ایچ سی ایچ آر' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے غیر ضروری اور غیرمتناسب استعمال کی واضح شہادتیں مزید تحقیقات کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسی شہادتوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، ناجائز گرفتاری اور قید، جبری گمشدگیوں، تشدد اور بدسلوکی سمیت اظہار اور پرامن اجتماع کی آزادی پر شدید پابندیوں جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

5 اگست 2024 کو حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد مذہبی اقلیتوں کے خلاف لوٹ مار، آتشزنی اور حملوں کے علاوہ سابق حکمران جماعت کے ارکان کو انتقاماً ہلاک کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ 15 اگست کو لاٹھیوں اور آہنی سلاخوں سے مسلح ہجوم نے سابق وزیراعظم کے حامیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران صحافیوں پر بھی حملے کیے گئے اور انہیں ان مناظر کی عکسبندی سے روکا گیا۔

سکیورٹی حکام کی تربیت

رپورٹ میں نظم و نسق کی بحالی اور زندگی کے مزید نقصان، تشدد اور انتقامی کارروائیوں کو روکنے کی ضرورت بھی واضح کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طاقت کے استعمال سے متعلق انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی مطابقت سے واضح ہدایات اور تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں اقلیتوں سمیت سبھی کے خلاف کسی بھی طرح کے انتقامی تشدد کو روکنا چاہیے۔

رپورٹ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عدالتوں، سکیورٹی کے شعبے اور دیگر اداروں میں تعیناتیوں اور برخاستگیوں کے لیے جانچ پڑتال کا موثر نظام ہونا چاہیے۔

مجوزہ دورہ بنگلہ دیش

ہائی کمشنر نے طلبہ تنظیموں، مذہبی رہنماؤں اور دیگر کی جانب سے اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات کو تحفظ دینے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد اور سیاسی قیدیوں بشمول جبراً لاپتہ کیے گئے لوگوں کی رہائی کا خیرمقدم بھی کیا ہے۔

ہائی کمشنر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ جا کر یہ جائزہ لیں گے کہ تبدیلی کے عمل میں 'او ایچ سی ایچ آر' کہاں مدد دے سکتا ہے۔ ادارے کی ٹیم بنگلہ دیش کے حکام سے حالیہ تشدد اور بے چینی کے تناظر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کے طریقوں پر بھی بات چیت کرے گی۔

ہائی کمشنر نے رواں ہفتے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ادارہ بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ ہے اور عبوری حکومت کو انسانی حقوق مدنظر رکھتے ہوئے اور جامع طور سے اقتدار کی کامیاب منتقلی میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہے۔