انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن میں انسانی بحران کی صورتحال بارشوں اور سیلاب سے مزید گھمبیر

موسلا دھار بارشوں یمن کے بیشتر علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
© IOM
موسلا دھار بارشوں یمن کے بیشتر علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

یمن میں انسانی بحران کی صورتحال بارشوں اور سیلاب سے مزید گھمبیر

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ یمن میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے ملک بھر میں انسانی بحران سے نڈھال لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور جنسی و تولیدی صحت کے ادارے (یو این ایف پی اے) نے بتایا ہے کہ سیلاب کے باعث ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص حدیدہ، حجہ، سعدہ اور تعز میں لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سیلاب سے شمالی علاقے مآرب میں بھی نظام زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔

Tweet URL

لوگوں کے گھر، پناہ گاہیں اور املاک سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے 72 گھنٹوں میں 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کو خوراک، حفظان صحت کی اشیا اور خواتین کے لیے صحت و صفائی کا سامان پہنچایا ہے۔

دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ اس امداد سے سیلاب زدہ لوگوں کی مشکلات کسی حد تک کم ہو گئی ہیں، تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشیں ستمبر کے آخر تک جاری رہیں گے جس سے مزید بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے۔

شدید انسانی بحران

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ یمن کی تقریباً نصف آبادی یا ایک کروڑ 82 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

ملک میں 'یو این ایف پی اے' کی نمائندہ انشارہ احمد نے کہا ہے کہ تباہ کن سیلاب نے لوگوں کی بے پایاں ضروریات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ امدادی ٹیمیں لوگوں کی مشکلات میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن بڑھتی ہوئی ضروریات اور آئندہ شدید موسمی حالات کی پیش گوئی نے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو پاؤں پر کھڑا کرنے اور ان کی زندگی بحال کرنے کے لیے آئندہ ہفتے اور مہینے بہت اہم ہوں گے۔

یونیسف اور 'یو این ایف پی اے' نے بتایا ہے کہ اگست کے اوائل سے تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور صرف حدیدہ میں ہی 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

امدادی وسائل کی ضرورت

امدادی ٹیموں کو سڑکوں کی تباہی، بارودی سرنگوں اور شہری آبادیوں میں اَن پھٹے گولہ بارود کی صورت میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ بے موسمی بارشوں کی شدت کے باعث اقوام متحدہ کے تیزرفتار ہنگامی اقدامات کے طریقہ کار (آر آر ایم) کی ٹیموں کے پاس امدادی سامان کے ذخائر میں کمی آ گئی ہے۔ انہیں موجودہ حالات میں 49 لاکھ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔

رواں سال یمن میں موسمیاتی حادثات سے متاثرہ 82 فیصد سے زیادہ ضرورت مند لوگوں نے 'آر آر ایم' کی ٹیموں سے مدد حاصل کی ہے۔

یمن میں یونیسف کے نمائندے پیٹر ہاکنز کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ ادارہ اور اس کے امدادی شراکت دار متاثرین کو ہنگامی ضرورت کی اشیا پہنچا رہے ہیں۔ ایسے مشکل حالات میں 'آر آر ایم' کی ٹیموں کا کردار بہت اہم ہے۔

علاقائی کشیدگی اور خدشات

حالیہ ہنگامی حالات سے پہلے بھی طویل سیاسی، انسانی اور ترقیاتی بحران  کے باعث یمن کے لوگوں کو بڑے پیمانے پر مدد درکار تھی۔ یہ بحران 2011 میں حکومت کے خلاف بغاوت سے شروع ہوا تھا۔

2015 میں اس وقت ملکی حالات مزید بگڑ گئے جب سعودی عرب کے زیرقیادت علاقائی اتحاد کی سرپرستی میں حکومتی افواج کی حوثی (انصاراللہ) جنگجوؤں سے لڑائی چھڑ گئی۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد متحارب فریقین میں امن بات چیت کا آغاز ہوا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے شروع کر رکھے ہیں اور علاقائی کشیدگی کے اثرات کی وجہ سے یمن میں لڑائی دوبارہ چھڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔