ایم پاکس کا پھیلاؤعالمی صحت عامہ کے لیے خطرے کی گھنٹی، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایم پاکس کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی تشویش کی حامل ہنگامی طبی صورتحال قرار دیتے ہوئے اس سے بچاؤ کے لیے صحت عامہ کے اقدامات کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
ایم پاکس کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی خطرہ قرار دینے کی سفارش عالمگیر صحت کے ضوابط سے متعلق ہنگامی کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی ہے جو آج منعقد ہوا۔ عالمی طبی قانون کے تحت ایسی صورتحال کا اعلان اسی وقت کیا جاتا ہے جب کسی بیماری سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خطرات لاحق ہوں۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا ہے کہ ایک روز قبل بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام کے افریقی مراکز (سی ڈی سی) نے بھی اسے صحت عامہ کے حوالے سے ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔ اس بیماری کا پھیلاؤ روکنے اور زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے بین الاقومی سطح پر مربوط اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
ایم پاکس کی خطرناک قِسم
ایم پاکس افریقہ کے بہت سے ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہے جن میں جمہوریہ کانگو اور اس کے ہمسایہ ملک برونڈی، کینیا، روانڈا اور یوگنڈا خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رواں سال 14 ہزار سے زیادہ لوگ اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں جن میں 524 کی موت واقع ہو گئی تھی۔ یہ تعداد 2023 میں سامنے آنے والی مریضوں سے کہیں زیادہ ہے۔
قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نے بتایا تھا کہ ایم پاکس کئی طرح کے وائرس سے پھیل رہی ہے۔ آج ہونے والے اجلاس میں اس کی خطرناک قسم 'ون بی' پر بات ہوئی جس کا سب سے زیادہ پھیلاؤ جمہوریہ کانگو میں دیکھنے کو ملا اور جنسی سرگرمیاں اس کی بڑی وجہ تھیں۔ ماہرین کے مطابق وائرس کی یہ قسم ایک سے دوسرے فرد کو باآسانی منتقل ہو جاتی ہے۔
ون بی وائرس کئی سال سے کانگو میں موجود ہے جبکہ 2022 میں اس کی دوسری قسم 'ٹو بی' کا دنیا بھر میں پھیلاؤ دیکھا گیا جسے عالمگیر صحت عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ مہینے کانگو کے ہمسایہ ممالک میں 90 فیصد مریض ون بی وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ ان ممالک میں پہلے یہ وائرس موجود نہیں تھا۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ ایم پاکس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہر جگہ مخصوص حالات کے مطابق اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
بیماری کے خلاف علاقائی اقدامات
ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' نے علاقائی سطح پر اس بیماری کو روکنے کے لیے ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے لیے ابتداً ڈیڑھ کروڑ ڈالر درکار ہیں جن سے اس بیماری کا کھوج لگانے، اس سے نمٹنے کی تیاری اور اس کے خلاف اقدامات میں مدد ملے گی۔
خطرناک طبی حالات کے لیے ادارے کے ہنگامی فنڈ سے اس مقصد کے لیے 14 لاکھ 50 ہزار ڈالر جاری کیے گئے ہیں۔ آئندہ ایام میں مزید مالی وسائل بھی مہیا کیے جائیں گے جبکہ عطیہ دہندگان سے بھی مدد کی اپیل کی جا رہی ہے۔
وبا کے محرکات کا تدارک
ٹیڈروز گیبریاسس نے کہا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' متاثرہ ممالک کی حکومتوں، سی ڈی سی افریقہ اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے ایم پاکس کے پھیلاؤ کے محرکات کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔
اس سلسلے میں انہیں خون کا تجزیہ کرنے اور ایم پاکس کا پتا چلانے والی مشینیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں وائرس کے نمونوں کی جانچ کے لیے تجربہ گاہوں کو بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے اور ایک سے دوسرے فرد کو اس وائرس کی منتقلی کا کھوج بھی لگایا جا رہا ہے۔
ویکسین کی تیزرفتار تیاری
اس وقت ایم پاکس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 'ڈبلیو ایچ او'کی تجویز اور منظور کردہ ویکسین استعمال کی جا رہی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل نے ایم پاکس ویکسین بنانے والے اداروں کو اس کی تیزرفتار تیاری کے لیے بھی کہا ہے تاکہ کم آمدنی والے ممالک کو یہ ویکسین مہیا کی جا سکے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کو بھی ویکسین جمع کرنے کے لیے کہا جائے گا تاکہ اس تک عام رسائی ممکن ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' تمام شراکت داروں کو ایم پاکس کی تشخیص کے علاوہ ویکسین، طبی سازوسامان اور علاج معالجے تک مساوی رسائی میں سہولت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی سفارشات
گزشتہ سال اگست میں ڈائریکٹر جنرل نے ایم پاکس کے پھیلاؤ کی نگرانی کے لیے سفارشات دی تھیں۔ ان کی مدت 20 اگست (2024) کو مکمل ہونا ہے تاہم اس میں مزید توسیع کی جا رہی ہے تاکہ ممالک کو اس خطرے سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔
مقامی تناظر میں صحت عامہ کے اقدامات کے ذریعے لوگوں کو تحفظ دینا، انہیں رہنمائی مہیا کرنا اور علاج معالجے کے لیے وسائل کی فراہمی بھی ان سفارشات کا حصہ ہے۔
ٹیڈروز گیبریاسس نے کہا ہےکہ 'ڈبلیو ایچ او' آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ایم پاکس کے خلاف عالمگیر اقدامات کو مربوط بنانے، ہر متاثرہ ملک کو تعاون مہیا کرنے، بیماری کی روک تھام، متاثرین کے علاج معالجے اور زندگیوں کو بچانے کے لیے پرعزم ہے۔