انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار: فریقین عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب، تحقیقاتی مشن

پندرہ سالہ یہ بچہ اس وقت اپنی دائیں ٹانگ سے محروم ہو گیا جب چاولوں کے ایک کھیت میں اس کا بارودی سرنگ پر پاؤں پڑ گیا تھا۔
© UNICEF/Minzayar Oo
پندرہ سالہ یہ بچہ اس وقت اپنی دائیں ٹانگ سے محروم ہو گیا جب چاولوں کے ایک کھیت میں اس کا بارودی سرنگ پر پاؤں پڑ گیا تھا۔

میانمار: فریقین عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب، تحقیقاتی مشن

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی غیرجانبدار تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ میانمار میں فوجی حکومت اور حزب اختلاف کے مابین مسلح تنازع تیزی سے سفاکانہ رخ اختیار کر رہا ہے جس میں دونوں فریق بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی مشن 'آئی آئی ایم ایم' کے سربراہ نکولس کومیجیئن نے علاقائی ممالک کی تنظیم 'آسیان' سے کہا ہے کہ وہ تشدد کا خاتمہ کرانے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کا محاسبہ کرنے میں مدد دے۔

فریقین کے جنگی جرائم

انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ میانمار میں فوجی حکمرانوں کے تباہ کن اقدامات کے جواب میں حزب اختلاف کی فورسز بھی کسی تادیب کے خوف سے بے نیاز ہو کر یہی کچھ کر رہی ہیں۔ شہری آبادیوں پر فضائی بمباری میں شدت آ گئی ہے۔ رواں سال فروری میں ریاست کیاہ میں ایک سکول پر حملے میں چار بچے ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے۔

گزشتہ برس نومبر اور دسمبر میں اسی ریاست کے علاقے لوئیکا میں حکومت مخالف فورسز کی جانب سے دو گرفتار فوجیوں کے سر قلم کیے جانے کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔ اسی طرح میگوے میں دو نوجوانوں کو زندہ جلائے جانے کی ویڈیو بھی آ چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2018 میں میانمار کے لیے غیرجانبدارانہ تحقیقاتی طریقہ کار (آئی آئی ایم ایم) تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد 2011 کے بعد ملک میں ہونے والے انتہائی سنگین بین الاقوامی جرائم کی شہادتیں جمع کرنا ہے۔ کمیشن نے اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ منگل کو جاری کی ہے جس میں یہ تمام تفصیلات مندرج ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی مشن 'آئی آئی ایم ایم' کے سربراہ نکولس کومیجیئن۔
UN News/Vibhu Mishra
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی مشن 'آئی آئی ایم ایم' کے سربراہ نکولس کومیجیئن۔

شہری آبادیوں پر بمباری

نکولس کومیجئین نے بتایا ہے کہ جنگی جرائم کے واقعات کی تعداد، شدت اور رفتار بڑھتی جا رہی ہے۔

حکومت کی افواج فضائی بمباری میں زیادہ تر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں عام طور پر سکول، چرچ اور ہسپتال ہی واحد بڑی عمارتیں ہوتے ہیں اور انہی پر بمباری کی جاتی ہے۔

ایسے واقعات کے بارے میں 'آئی آئی ایم ایم' کی رپورٹ کی بنیاد 900 سے زیادہ ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر ہے۔ ان میں 400 سے زیادہ عینی شاہدین کی گواہی بھی شامل ہے جبکہ تصاویر، ویڈیو، بصری مواد، دستاویزات، نقشوں، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر، سوشل میڈیا کے مواد اور فارنزک شہادتوں کو بھی زیرغور لایا گیا ہے۔

آسیان سے اپیل

انہوں نے 'آسیان' سے اپیل کی ہے کہ میانمار کی فوج کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا واضح ثبوت موجود ہے اور اس پر جنگ کو ختم کرنے کے لیے فوری دباؤ ڈالا جائے۔ اس تنظیم کا میانمار پر نمایاں اثرورسوخ ہے اور اس نے ملک میں لڑائی کو ختم کرنے کے لیے پانچ نکاتی اتفاق رائے طے کیا تھا جس پر میانمار کے فوجی حکمران بھی دستخط کر چکے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ 'آسیان' اس اتفاق رائے پر عملی اقدامات کرے۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ 'خطے کے ممالک تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں' بلکہ اس مقصد کے لیے ایسے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے جن سے یہ صورتحال تبدیل ہو سکے۔

نکولس کومیجئین کا کہنا ہے کہ جرائم کے ارتکاب پر قانونی کارروائی کو یقینی بنانا بھی 'آئی آئی ایم ایم' کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ مشن نے اپنی رپورٹ اور شہادتیں بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالت انصاف کو بھی پیش کر دی ہیں۔