بنگلہ دیش میں بحالی امن اور نئے انتخابات کی کوششوں کا خیرمقدم
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بنگلہ دیش میں امن کی بحالی اور نئے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوری حکمرانی کی جانب مراجعت میں تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلے۔
اپنے نائب ترجمان فرحان حق کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے امن کے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کے زیرقیادت عبوری انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مشمولہ جمہوری عمل کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور اس ضمن میں خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ اقلیتوں اور مقامی باشندوں کی آوازوں پر خاص توجہ دے۔
انسانی حقوق کے احترام پر زور
محمد یونس اور ان کے قائم کردہ گرامین بینک کو نچلی سطح پر معاشی و سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے پر 2006 میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ جمعرات کو عبوری حکومت کے مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ یہ عہدہ وزیراعظم کے برابر ہے۔
قبل ازیں کئی ہفتوں سے جاری عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ مستعفی ہو کر ملک چھوڑ گئی تھیں۔
سیکرٹری جنرل نے بنگلہ دیش کے لوگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے مکمل احترام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتوں میں احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات کی مکمل، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے بھی کہا ہے۔
حکومت کا ڈرامائی خاتمہ
جولائی میں طلبہ کے زیرقیادت شروع ہونے والے مظاہروں میں بچوں سمیت 300 سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ اس دوران 20 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ اسے بنگلہ دیش کی تاریخ کی بدترین خونریزی کہا جاتا ہے۔
جولائی میں طلبہ کی بڑی تعداد نے نوکریوں کے ایک مخصوص کوٹے کو ختم کرنے کا مطالبہ لے کر یہ احتجاج شروع کیا تھا۔ اگرچہ ایک عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نے اس کوٹے میں کمی کر دی تھی لیکن اگست میں لوگ وزیراعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور مظاہرین پر تشدد کرنے والوں کے محاسبے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
شیخ حسینہ جنوری 2009 سے ملک پر حکومت کر رہی تھیں اور اس سے پہلے 1996 تا 2001 بھی ملک کی وزیراعظم رہ چکی ہیں۔