براعظم افریقہ کو سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت ملنی چاہیے، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سلامتی کونسل کی ساخت کو متروک قرار دیتے ہوئے اس میں فوری اصلاحات لانے اور براعظم افریقہ کو مستقل نمائندگی دینے کے لیے کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کونسل کی موجودہ ساخت تبدیل ہوتی دنیا سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد طاقت کا توازن قائم رکھنے کے مقصد کو لے کر بنایا گیا تھا۔
ایک ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل براعظم کو دنیا میں امن و سلامتی قائم رکھنے کے ذمہ دار اس اہم ترین ادارے سے خارج نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی طرح، افریقہ اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کے مسائل پر اس براعظم کی آواز کو اہمیت نہ دینے کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
سیکرٹری جنرل نے یہ بات افریقہ سے روا رکھی جانے والی تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ کرنے اور سلامتی کونسل میں براعظم کی موثر نمائندگی کو بڑھانے سے متعلق اعلیٰ سطحی مباحثے میں کہی۔ یہ اجلاس افریقی ملک سیرالیون نے بلایا تھا جو رواں ماہ کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔
ناانصافی کا ازالہ
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ناانصافی کو ختم کرنے اور سلامتی کونسل کی ساکھ اور جواز کو قائم رکھنے کے لیے اس میں عرب ممالک سے لے کر بینیلکس، نارڈک اور کیریکوم گروپ کے ممالک تک سبھی کو نمائندگی دینے کے مطالبے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ جنرل اسمبلی اور کونسل کے بعض مستقل ارکان کی جانب سے بھی یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے اس معاملے میں گزشتہ سال جولائی میں اپنے جاری کردہ 'نیا ایجنڈا برائے امن' کا تذکرہ بھی کیا۔ اقوام عالم میں مستقبل کے معاہدے پر ہونے والی بات چیت میں اس ایجنڈے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جسے آئندہ ماہ کانفرنس برائے مستقبل میں منظور کیا جانا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ کانفرنس ان امور پر پیش رفت کا اہم موقع ہو گی اور اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ تمام ممالک مساوی حیثیت سے عالمگیر انتظامی ڈھانچے میں بامعنی طور سے شمولیت اختیار کر سکیں۔
انہوں نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت کریں اور اپنے خیالات پیش کریں تاکہ افریقہ کے لوگوں کی آواز سنی جائے، افریقہ کے اقدامات کو حمایت حاصل ہو اور افریقیوں کی ضروریات پوری ہوں۔
سلامتی کونسل کی ساخت
15 رکنی سلامتی کونسل پانچ مستقل اور 10 غیرمستقل ارکان پر مشتمل ہے۔ مستقل ارکان میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں جن میں سے ہر ایک کو کسی بھی فیصلے یا قرارداد کو ویٹو کے ذریعے روک دینے کا اختیار حاصل ہے۔ غیرمستقل ارکان کو علاقائی بنیادوں پر دو سالہ مدت کے لیے کونسل میں منتخب کیا جاتا ہے۔
ان میں افریقہ کے ممالک کو تین، ایشیائی الکاہل، لاطینی امریکہ و غرب الہند اور مشرقی یورپ و دیگر ممالک کو دو دو اور مشرقی یورپ کو ایک نشست دی جاتی ہے۔
حالیہ عرصہ میں سلامتی کونسل میں چند اصلاحات عمل میں لائی گئی ہیں جن میں کسی فیصلے یا قرارداد کو ویٹو کیے جانے کی صورت میں اس پر بحث کے لیے الگ اجلاس کا انعقادبھی شامل ہے۔ اس کا مقصد کونسل کے اندر شفافیت اور احتساب میں اضافہ کرنا ہے۔
تاہم ادارے میں بڑی اصلاحات کے متواتر مطالبات کیے جا رہے ہیں جن میں ایسے علاقوں کی آواز نمایاں ہے جنہیں کونسل میں نمائندگی نہیں ملتی۔
افریقہ کا اہم کردار
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے بھی کونسل سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمگیر امن و سلامتی میں افریقہ کے اہم کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے کونسل میں اصلاحات لانے کی ضرورت واضح کی۔
انہوں نے چند ہفتے قبل جنوبی سوڈان کے اپنے دورے کا تذکرہ بھی کیا جہاں ان کی ملاقات اندرون ملک بےگھر ہونے والے لوگوں سے ہوئی اور اس دوران انہوں نے اقوام متحدہ کے مشن کی امدادی کارروائیوں کا مشاہدہ بھی کیا۔
ڈینس فرانسس نے ہیٹی کے حکام سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں بھی بتایا جہاں انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2699 کی منظوری کے بعد کینیا کی قیادت میں کثیرملکی سکیورٹی سپورٹ مشن (ایم ایس ایس) کی تعیناتی پر بات چیت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے عالمی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں براعظم افریقہ کے نمایاں اور بڑھتے ہوئے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔
ڈینس فرانسس کا کہنا تھا کہ، جنرل اسمبلی بین الحکومتی بات چیت کے ذریعے اصلاحات کے معاملے پر فعال طور سے کام کر رہی ہے۔ رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ ٹھوس اصلاحات کی خاطر ایک دوسرے سے تعمیری رابطے کریں۔یہ سب کچھ کرنے کا مقصد مسائل کا حل نکالنا اور اقوام متحدہ پر دنیا کے لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔