انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنا جاری، دس ممالک میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے زیادہ

درجہ حرارت میں سالانہ ایک ڈگری سیلسیئس کا اضافہ غربت میں 9.1 فیصد اضافہ کر دیتا ہے۔
© Unsplash/Timo Volz
درجہ حرارت میں سالانہ ایک ڈگری سیلسیئس کا اضافہ غربت میں 9.1 فیصد اضافہ کر دیتا ہے۔

گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنا جاری، دس ممالک میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے زیادہ

موسم اور ماحول

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 22 جولائی 2024 اب تک کا گرم ترین دن تھا جو کہ اس امر کی علامت ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرہ ارض کے ماحول کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔

'ڈبلیو ایم او' کے مطابق، جون 2023 سے جون 2024 تک متواتر 13 مہینے عالمگیر اوسط درجہ حرارت کے حوالے سے اب تک کا گرم ترین عرصہ تھے۔

Tweet URL

ریکارڈ توڑ گرمی

ادارے کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ گزشتہ برس بڑے پیمانے پر شدید گرمی کی لہروں نے ہر براعظم کو متاثر کیا۔ کم از کم 10 ممالک ایسے ہیں جہاں ایک سے زیادہ جگہوں پر کسی نہ کسی روز درجہ حرارت 50 ڈگری سے زیادہ رہا۔

یہ رحجانات شدید گرمی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گزشہ مہینے 'کال ٹو ایکشن' کے نام سے ایک نیا اقدام شروع کیا تھا جس کا مقصد شدید گرمی کا سدباب کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زمین گرم ہو رہی ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے لیے مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔

مہلک اثرات

شدید گرمی کے اثرات ہر جگہ معاشرے کی ہر سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں سالانہ ایک ڈگری سیلسیئس کا اضافہ غربت میں 9.1 فیصد اضافہ کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں 12 فیصد خوراک ضائع ہو جاتی ہے اور گرمی کے باعث 2030 تک آٹھ کروڑ کل وقتی نوکریوں کے برابر کام کا وقت ضائع ہو سکتا ہے۔

سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ ایسی صورتحال کے مہلک نتائج برآمد ہوں گے۔ 2000 سے 2019 تک گرمی کے نتیجے میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ اموات ہوئیں۔ شدید گرمی سے معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں، عدم مساوات بڑھ رہی ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول خطرے میں ہے جبکہ اس صورتحال کو سنبھالنا آسان نہیں۔

98 ہزار زندگیوں کا تحفظ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے شروع کردہ اقدام کا مقصد شدید گرمی کے کڑے ماحولیاتی اور سماجی معاشی اثرات کو محدود رکھنا ہے۔

اس حوالے سے چار اہم شعبوں میں مرتکز کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ان میں کمزور لوگوں کی نگہداشت، کارکنوں کا تحفط، معلومات اور سائنس کے ذریعے معیشتوں اور معاشروں کو مضبوط بنانا اور معدنی ایندھن کے بتدریج خاتمے اور قابل تجدید توانائی پر سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنا شامل ہیں۔

اس اقدام کے تحت اقوام متحدہ کے دس اداروں کی مہارت اور نقطہ ہائے نظر کو لے کر انسانی صحت، زندگی اور روزگار پر شدید گرمی کے متنوع اور کثیرالجہتی اثرات پر قابو پایا جائے گا۔

سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ 'ڈبلیو ایم او' صحت پر گرمی کے اثرات سے متعلق بروقت اور بہتر انتباہ کے ساتھ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ حالیہ اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 57 ممالک نے گرمی سے متعلق پیشگی انتباہ کے نظام کو ترقی دی ہے جس سے ہر سال تقریباً 98 ہزار زندگیوں کو تحفظ ملے گا۔