آسٹریلیوی فوجیوں کے افغانستان میں جنگی جرائم کی فوری تلافی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ماہرین برائے انسانی حقوق نے آسٹریلیا پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی فوج کے ہاتھوں جنگی جرائم کے متاثرین کو زر تلافی کی ادائیگی کے لیے اپنا وعدہ فوری طور پر پورا کرے۔
ماہرین نے کہا ہے کے ماورائے عدالت قتل اور تشدد کے متاثرین کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ازالے کی فراہمی آسٹریلیا کی لازمی ذمہ داری ہے۔ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ 2012 میں ہلاک ہونے والے نذرگل، یارو ماما فقیر اور علی جان کے خاندان افغانستان کے کڑے حالات میں بارہ سال سے بے یارومددگار ہیں۔
2020 میں ہونے والی تحقیقات سے یہ سامنے آیا تھا کہ آسٹریلیا کے فوجیوں نے افغانستان میں نیٹو کے زیرقیادت بین الاقوامی فوج کے لیے کام کرتے ہوئے 39 غیرمسلح قیدیوں کو قتل کیا۔ ان میں سے بعض متاثرین کو ہلاکت سے پہلے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
ازالے میں طویل تاخیر
گزشتہ مہینے آسٹریلیا نے متاثرین کو زرتلافی کی ادائیگی کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی تھی۔ تاہم، آسٹریلیا ایسے زرتلافی کی ادائیگی بین الاقوامی قانون کے تحت متاثرین کے قانونی حق کے بجائے اپنی فوج کی جانب سے صوابدیدی خیراتی عمل کے طور پر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے یہ منصوبہ زر تلافی کی ادائیگی کے لیے قابل عمل حق مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس میں انسانی حقوق کی مطابقت سے کوئی ایسا واضح معیار نہیں جس کے تحت ادائیگی کی بنیاد اور اس کی مقدار کا تعین ہو سکے۔ علاوہ ازیں، اس معاملے میں قانونی اور عدالتی تحفظ بھی ناکافی ہے اور متاثرین کو اطلاع دینے یا ان کے ساتھ مشاورت کرنے کی کوئی شرط بھی موجود نہیں۔
ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریلیا کی حکومت ان واقعات کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ عمل کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے سست رفتار ہی سہی مگر حقیقی کوششیں کر رہی ہے اور اس نے متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ متاثرین کےخاندان زر تلافی کے حقدار ہیں اور بعض افراد کے قتل سے 12 برس بعد اور آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انہیں ازالے کا حق دار قرار دیے جانے سے چار سال بعد بھی ادائیگی نہ ہونا ناقابل قبول ہے۔
ازالے یا زرتلافی کی ادائیگی کے علاوہ، بین الاقوامی قانون آسٹریلیا سے یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ وہ متاثرین، ان کے اہلخانہ، بچوں، بیویوں اور خاندان کے دیگر ارکان کی بحالی اور انہیں طبی، نفسیاتی، قانونی اور تعلیمی مدد کی فراہمی بھی یقینی بنائے۔ مکمل بحالی ممکنہ طور پر سچائی، معافی اور متاثرین کو عوامی سطح پر یاد کرنے کا تقاضا بھی کرتی ہے
متاثرین کی توہین
ماہرین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ آسٹریلیا نے متاثرین اور ان کے اہلخانہ سے براہ راست معافی نہیں مانگی یا انہیں تحقیقات، قانونی کارروائی یا فوج میں اصلاحات کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں آسٹریلیا میں اس معاملے پر ہونے والی کارروائی میں شامل کیا ہے۔
آسٹریلیا میں جنگی یادگار پر ایک ایسے اہلکار کا نام بھی بطور ہیرو درج ہے جو افغانوں کے قتل میں ملوث تھا اور یہ متاثرین کو نظرانداز کرنے اور ان کی توہین کے مترادف ہے۔
ماہرین نے افغانستان میں سیاسی ماحول اور سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں متاثرین کے نقصان کے ازالے کی راہ میں حائل مسائل اور افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ آسٹریلیا کے سفارتی تعلقات نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو زر تلافی کی ادائیگی کے لیے دیگر قابل عمل طریقے بھی موجود ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے اپنی مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔
ماہرین نے ماضی میں اپنی فوجیں افغانستان بھیجنے والے دیگر ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں اور بالخصوص جنگی جرائم کے الزامات کا جائزہ لیں اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کا محاسبہ اور متاثرین کے نقصان کا ازالہ یقینی بنائیں۔
ماہرین اس معاملے پر آسٹریلیا کے حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔
ماہرین و خصوصی اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔