وولکر ترک کی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری طور پر کم کرنے کی اپیل
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو فوری کم کرنے کے لیے تنازع کے تمام فریقین اور ان پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک سے فعال کردار ادا کرنے کو کہا ہے۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ انہیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پھیلاؤ پر سخت تشویش ہے۔ ان حالات میں شہریوں کے انسانی حقوق کو تحفط دینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 مہینوں میں غزہ کے شہریوں اور بالخصوص خواتین اور بچوں نے متواتر بمباری کے باعث ناقابل برداشت تکالیف جھیلی ہیں۔
غزہ کی جنگ اور اس کے باعث مختلف ممالک میں ہونے والے حملوں اور جوابی حملوں سے پھیلتی کشیدگی کو تباہ کن صورت اختیار کرنے سے فوری طور پر روکنا ہو گا۔ ایسا نہ کیا گیا تو عام لوگوں پر اس کے مزید تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتویو گوتیرش بھی ان حملوں کے نتیجے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے اور متحارب فریقین سے تحمل کی اپیل کر چکے ہیں۔
12 جولائی کو اسرائیل کے زیرقبضہ شامی علاقے گولان پر ایک راکٹ گرنے سے بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے چند روز کے بعد اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حملہ کر کے مسلح گروہ حزب اللہ کے ایک کمانڈر کو ہلاک کر دیا جس کے بعد حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ان واقعات کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ٹور وینزلینڈ نے گزشتہ جمعے کو لبنان، مصر اور قطر کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے درکار اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔