یو این چیف کی موغادیشو میں خودکش حملے اور ہلاکتوں کی مذمت
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں خودکش حملے کی سخت مذمت کی ہے جس میں 37 ہلاکتوں اور 200 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
انہوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے صومالیہ کے لوگوں کو طویل عرصہ سے ایسی گھناؤنی دہشت گردی کا سامنا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ دہشت گردی اور متشدد انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد میں صومالیہ کی حکومت اور لوگوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔
اطلاعات کے مطابق موغادیشو کے ساحلی علاقے لیڈو بیچ پر ہونے والے اس دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ الشباب نے قبول کی ہے۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق جمعے کی رات پیش آیا جس میں خودکش دھماکے کے بعد شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ واقعہ اکتوبر 2022 میں موغادیشو میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد صومالیہ میں ہونے والا دہشت گردی کا مہلک ترین حملہ ہے۔ اول الذکر واقعے میں 120 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
صومالیہ میں تعینات اقوام متحدہ کی ٹیم نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ملک کے لیے سیکرٹری جنرل کے قائم مقام نمائندہ خصوصی جیمز سوان نے کہا ہے کہ لیڈو بیچ صومالیہ کے لوگوں کا پسندیدہ مقام ہے جہاں وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت بتاتے اور ساحلی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایسی جگہ پر حملہ ایک گھناؤنا اقدام ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ امن کے خواہاں تمام صومالی شہریوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اور ملک کی حکومت کو امن، سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کے تعاون اور یکجہتی کا یقین دلاتا ہے۔