مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ہنگامی بنیادوں پر کم کرنے کی ضرورت، وینزلینڈ
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے لبنان، اسرائیل کے زیرقبضہ شامی علاقے گولان اور ایران میں حالیہ حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ٹور وینزلینڈ کا کہنا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خاتمہ کے لیے لبنان، مصر اور قطر سمیت مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔ علاقے میں خطرناک کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹںے کی ضرورت ہے بصورت دیگر علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس ضمن میں مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہونے والی بات چیت کے دوران کشیدگی کو روکنے اور ثالثی کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور حالات میں مزید بگاڑ سے بچنے کے اقدامات زیرغور آئے ہیں۔
ٹور وینزلینڈ نے اس صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے فوری، اور مربوط اقدامات کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطرات سے نمٹنے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے فیصلہ کن اور اجتماعی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
سیکرٹری جنرل کی تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی خبردار کر چکے ہیں کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کے فضائی حملے میں حزب اللہ کے اعلیٰ سطحی کمانڈر اور ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سربراہ کی ہلاکتوں کے نتیجے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
ایک روز قبل ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تمام کوششیں غزہ میں جنگ بندی، تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، غزہ میں فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں بڑے پیمانے پر اضافے اور لبنان۔اسرائیل سرحد پر قیام امن کے لیے مرکوز ہونی چاہئیں۔