انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یورپ میں گرمی ہر سال 175,000 اموات کا سبب، ڈبلیو ایچ او

گرمی کی لہروں کا مطلب گرم اور خشک یا گرم اور نمدار موسم کے ایسے ادوار ہیں جو کم از کم دو سے تین روز تک برقرار رہتے ہیں۔
© Unsplash/Derek Thomson
گرمی کی لہروں کا مطلب گرم اور خشک یا گرم اور نمدار موسم کے ایسے ادوار ہیں جو کم از کم دو سے تین روز تک برقرار رہتے ہیں۔

یورپ میں گرمی ہر سال 175,000 اموات کا سبب، ڈبلیو ایچ او

موسم اور ماحول

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یورپی ممالک میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے دو گنا زیادہ ہے جہاں ہر سال گرمی سے متعلقہ وجوہات کی بنا پر ایک لاکھ پچہتر ہزار لوگوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' میں یورپی خطے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے کا کہنا ہے کہ یورپ بھر کے ممالک عالمی حدت میں اضافے کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ 2020 کے بعد یورپ میں تین سال اب تک کا گرم ترین عرصہ تھا اور 2007 کے بعد یہ براعظم 10 گرم ترین سال دیکھ چکا ہے۔

Tweet URL

گرمی، بیماریاں اور اموات

ڈاکٹر کلوگے نے کہا ہےکہ یورپی خطے میں گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اِس وقت پڑنے والی شدید گرمی کے باعث دل اور سانس کی بیماریاں اور دماغی شریانوں میں خون کے دباؤ میں خرابی، ذہنی صحت اور زیابیطس سے متعلق مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

شدید گرمی معمر افراد اور خاص طور پر اکیلے رہنے والوں پر زیادہ بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں، اس سے حاملہ خواتین کو لاحق ہونے والے صحت کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔

گرمی سے تحفظ کی منصوبہ بندی

'ڈبلیو ایچ او' ے کہا ہے جسمانی طور کمزور اور بیمار افراد پر گرمی کی شدت کو محدود رکھنے کے لیے حکومتوں کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاحال 'ڈبلیو ایچ او' کے یورپی خطے میں 20 سے کچھ زیادہ ممالک نے ہی ایسی منصوبہ بندی کی ہے جو تمام لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے کافی نہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی کہہ چکے ہیں کہ ہر جگہ اور ہر ایک کے لیے زمین مزید گرم اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ موسمیاتی بحران کے باعث بڑھنے والی گرمی نے بعض جگہوں کو ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔ 2000 اور 2019 کے درمیانی عرصہ میں شدید گرمی کے باعث ہر سال اوسطاً چار لاکھ 89 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں جن میں 36 فیصد کا تعلق یورپی خطے سے تھا۔

تین گرم ترین ایام

انتونیو گوتیرش نے یہ بات اُس ہفتے کہی تھی جب حالیہ تاریخ میں زمین پر تین گرم ترین دن ریکارڈ کیے گئے تھے۔

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق یورپی یونین کی کوپرنیکس سروس کے مطابق، 22 جولائی 2024 کو کرہ ارض کا اوسط درجہ حرارت 17.16 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے اگلے روز یہ درجہ حرارت 17.15 ڈگری سیلسیئس تھا جبکہ 21 جولائی کو 17.09 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا۔ ان تینوں ایام میں 6 جولائی 2023 کو قائم ہونے والا گرمی کا سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جب کرہ ارض کا درجہ حرارت 17.08 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

'ڈبلیو ایچ او' نے ہر فرد کو شدید گرمی سے تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے عام فہم رہنمائی دینے کے لیے #KeepCool مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر کلوگے کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے منفی طبی اثرات زیادہ تر قابل انسداد ہوتے ہیں۔ اگر گرمی سے نمٹنے کی مناسب تیاری کی جائے تو ناصرف اب بلکہ مستقبل میں بھی بہت سے زندگیوں کو تحفظ مل سکتا ہے۔

 ڈبلیو ایچ او کی رہنما ہدایات

  • گرمی سے بچیں: جب دن میں شدید گرمی پڑ رہی ہو تو باہر نکلنے اور محنت طلب کاموں سے پرہیز کریں۔ سائے میں رہیں اور بچوں یا جانوروں کو کھڑی گاڑیوں میں مت چھوڑیں۔ اگر ضروری اور ممکن ہو تو دو سے تین گھنٹے سپرمارکیٹ یا سینما جیسی ٹھنڈی جگہ پر رہیں۔
  • گھر کو ٹھنڈا رکھیں: رات کو گھر ٹھنڈا رکھنے کے لیے اس میں ہوا کا گزر ممکن بنائیں۔ گھر کے اندر یا ہوٹل کے کمرے میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کھڑکیوں پر پردے ڈالیں اور رات کے وقت گھر کو ہوا دار رکھنے کے لیے انہیں کھول دیں۔
  • جسم کو ٹھنڈا اور آبیدہ رکھیں: ہلکا اور ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں اور بستر پر ہلکے کپڑے کی چادریں بچھائیں، ٹھنڈے پانی سے نہائیں اور میٹھے یا الکوحل والے مشروبات سے پرہیز کرتے ہوئے باقاعدگی سے پانی پیئں یا کیفین والے مشروبات استعمال کریں جو جسم میں نمی برقرار رکھتے ہیں۔
  • اپنا اور دوسروں کا خیال رکھیں: اپنے خاندان کے ارکان، دوستوں اور ہمسایوں بالخصوص ایسے معمر افراد کا خیال رکھیں جو اکیلے ہوں۔

گرم ادوار اور گرمی کی لہر

اقوام متحدہ کی جاری کردہ رہنمائی میں گرمی کی لہروں کا مطلب گرم اور خشک یا گرم اور نمدار موسم کے ایسے ادوار ہیں جو کم از کم دو سے تین روز تک برقرار رہتے ہیں اور ان سے انسانی سرگرمیاں نمایاں طور سے متاثر ہوتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، گرمی کی لہریں گرمی کے ادوار سے مختلف ہوتی ہیں تاہم ان میں بہت سی مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔ کسی جگہ پر غیرمعمولی گرمی کا متواتر طویل دورانیہ گرم دور کہلاتا ہے اور کسی بھی موسم میں معمول کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے کو گرمی کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ ادوار سال میں کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔ تاہم گرمی کی لہر صرف گرم موسم میں ہی آتی ہے۔