انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایرانی وزیر خارجہ سے گفتگو میں گوتیرش کا تحمل کی ضرورت پر زور

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Mark Garten
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش (فائل فوٹو)۔

ایرانی وزیر خارجہ سے گفتگو میں گوتیرش کا تحمل کی ضرورت پر زور

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کو دہرایا ہے۔

ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی بغیری کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات امن و تحمل کا تقاضا کرتے ہیں اور تمام فریقین کو بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو معمول کی بریفنگ کے دوران سیکرٹری جنرل کے بیان سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اقوام متحدہ کا پیغام یہ ہے کہ ایک دوسرے پر حملوں اور جوابی حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

کشیدگی میں خطرناک اضافہ

ایک روز قبل سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا تھا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کے فضائی حملے میں حزب اللہ کے اعلیٰ سطحی کمانڈر اور ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سربراہ کی ہلاکتوں کے نتیجے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تمام کوششیں غزہ میں جنگ بندی، تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، غزہ میں فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں بڑے پیمانے پر اضافے اور لبنان۔اسرائیل سرحد پر قیام امن کے لیے مرکوز ہونی چاہئیں۔

ایران، حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیلی حملوں کا بدلہ لینے کے اعلان پر اقوام متحدہ کے ردعمل سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ خطے کے تمام تنازعات کسی نہ کسی طرح آپس میں منسلک ہیں اور ہر تنازع سیاسی بات چیت کا تقاضا کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے عملے کی رہائی کا مطالبہ

سٹیفن ڈوجیرک نے صحافیوں کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل اور ایران کے وزیر خارجہ نے یمن کی صورتحال پر بھی بات چیت کی ہے اور اس دوران خاص طور پر اقوام متحدہ کے زیرحراست عملے کی رہائی کا معاملہ بھی زیربحث آیا جو اس وقت حوثیوں کی قید میں ہیں۔ اقوام متحدہ ان لوگوں کی ہرممکن طور سے جلد از جلد رہائی کا خواہاں ہے۔

یمن کے حوثی باغی انصار اللہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اور انہوں ںے اقوام متحدہ کے عملے کے 13 ارکان اور غیرسرکاری بین الاقوامی اور قومی اداروں (این جی اوز)، سول سوسائٹی اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے اداروں کے درجنوں اہلکاروں کو تقریباً دو ماہ سے گرفتار کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) اور اس کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے چار ملازمین بھی 2021 اور 2023 سے حوثیوں کی قید میں ہیں۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی ہینز گرنڈبرگ نے گزشتہ برس سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال یمن کے تنازع کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات 19 جولائی کو اسرائیلی شہر تل ابیب پر حوثیوں کے ڈرون حملے اور پھر یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی تھی۔