ماں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی سے سالانہ لاکھوں جانیں بچانا ممکن
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بچوں کے لیے ماؤں کے دودھ کی لازمی ضرورت پر زور دیا ہے تاکی طبی عدم مساوات میں کمی لائی جائے اور ماں بچے دونوں کی بقا اور خوشحالی یقینی بنائی جا سکے۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل اور ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ جب ماؤں کو بچوں کو اپنا دودھ پلانے میں مدد میسر آتی ہے تو اس سے سبھی کو فائدہ ہوتا ہے۔ ماؤں کا دودھ پینے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ کر کے ہر سال 820,000 سے زیادہ بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
دونوں سربراہوں نے یہ بات بچوں کے لیے ماؤں کے دودھ کی اہمیت کے عالمی ہفتے کے آغاز پر کہی ہے جو یکم سے 7 اگست تک منایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماں کے دودھ میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو بچوں کو بیماری اور موت کے خلاف تحفظ دیتے ہیں۔ ہنگامی حالات کے دوران اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ماں کا دودھ نومولود اور چھوٹے بچوں کو محفوظ، غذائیت بھری اور قابل رسائی خوراک کی ضمانت دیتا ہے۔ ماں کے دودھ کی بدولت بچپن کی بیماریوں میں بھی کمی آتی ہے اور ماؤں کو مخصوص اقسام کے سرطان اور غیرمتعدی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
مثبت پیش رفت اور مشکلات
دونوں اداروں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برس میں ماؤں کا دودھ پینے والے چھ ماہ سے کم عمر کے ایسے بچوں کی تعداد میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دنیا بھر میں 48 فیصد چھوٹے بچے زندگی کا صحت مند انداز میں آغاز کر رہے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' نے 2025 تک یہ تعداد کم از کم 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا اور اسے دیکھتے ہوئے موجودہ پیش رفت خاصی حوصلہ افزا ہے، تاہم اس معاملے میں تاحال بہت سی مشکلات باقی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں 4.5 ارب لوگوں یا کم از کم نصف انسانی آبادی کو ضروری طبی خدمات تک مکمل رسائی نہیں ہے۔ نتیجتاً، بہت سی خواتین کی صحت اتنی اچھی نہیں ہوتی کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلا سکیں۔ علاوہ ازیں، بڑی تعداد میں خواتین اس حوالے سے تربیت یافتہ، ہمدردانہ اور باوقار طبی مدد اور مشاورت سے محروم رہتی ہیں۔
قابل بھروسہ معلومات کی ضرورت
کیتھرین رسل اور ٹیڈروز گیبریاسس کا کہنا ہے کہ طبی حوالے سے عدم مساوات پر قابو پانے اور ماؤں سمیت خاندانوں کو بروقت اور موثر مدد کی فراہمی کے لیے قابل بھروسہ معلومات جمع کرنا ضروری ہے۔ تاہم اس وقت نصف ممالک کے پاس ہی ماؤں کا دودھ پینے والے بچوں کی تعداد کے بارے میں درست اعدادوشمار موجود ہیں۔
اس معاملے میں ایسی پالیسیوں سے متعلق معلومات کی دستیابی بھی ضروری ہے جن کی بدولت زیادہ زیادہ بچوں کو ماؤں کا دودھ پلایا جا سکے۔ ان میں خاندان دوست ملازمتی پالیسیاں، ماؤں کے دودھ کے متبادل کی مارکیٹنگ کے حوالے سے ضابطہ کاری اور بچوں کے لیے ماؤں کا دودھ یقینی بنانے پر سرمایہ کاری سے متعلق پالیسیاں شامل ہیں۔
دونوں اداروں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ جب بچوں کو ماؤں کا دودھ پلانے کے عمل کو تحفظ دیا جائے اور اس میں مدد فراہم کی جائے تو بچوں کو ماں کا دودھ میسر آنے کے امکانات دو گنا بڑھ جاتے ہیں اور ایسا کرنا سبھی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس معاملے میں خاندان، معاشرے، طبی کارکن، پالیسی ساز اور دیگر فیصلہ ساز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خاندان دوست ملازمتی پالیسیاں
اس حوالے سے دیگر اقدامات میں کام کی جگہوں پر خاندان دوست پالیسیوں کا نفاذ اور نگرانی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹیاں، بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے کام کے دوران وقفے کی سہولت اور بچوں کی سستی و معیاری نگہداشت کی سہولت شامل ہیں۔
دونوں اداروں کے سربراہوں نے یہ یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے کہ ہنگامی حالات کا سامنا کرنے والی یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی ماؤں کو معمول کی طبی سہولیات میں بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے حوالے سے تحفظ اور مدد بھی مہیا کی جانی چاہیے۔