سلامتی کونسل: وسطی جمہوریہ افریقہ کی افواج پر اسلحہ کی پابندیوں کا خاتمہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو وسطی جمہوریہ افریقہ (سی اے آر) کی سرکاری فوج پر اسلحے کی پابندی اٹھاتے ہوئے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ ملک میں سرگرم مسلح گروہوں کو ہر طرح کے ہتھیاروں کی براہ راست یا بالواسطہ فراہمی کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
وسطی جمہوریہ افریقہ کو ہتھیار فراہم کرنے پر یہ پابندی 2013 میں اس وقت عائد کی گئی تھی جب ملک وحشیانہ فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں تھا اور اکثریتی مسلمان آبادی سے تعلق رکھنے والی سیلیکا باغیوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس موقع پر عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد پر مشتمل ملیشیاؤں نے سیلیکا حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔
اس تنازع کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوا جس میں ہزاروں افراد ہلاک، زخمی اور بے گھر ہو گئے۔
اسلحہ تلف کرنے کی ہدایت
سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد 2745 (2024) میں رکن ممالک کو اختیار دیا ہے کہ وہ مسلح گروہوں اور ان سے منسلک افراد کو بھیجنے کے لیے رکھے ممنوعہ سازوسامان بشمول ہتھیاروں، گولہ بارود، فوجی گاڑیوں اور آلات، نیم فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور فاضل پرزہ جات کو ضبط کر کے رجسٹرڈ کریں اور انہیں ضائع کر دیں۔
قرارداد میں رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے سازوسامان کو ضائع کرنے کے لیے وسطی جمہوریہ افریقہ پر پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو 30 یوم میں مطلع کریں۔ سلامتی کونسل نے کمیٹی کو مدد دینے والے ماہرین کے پینل کے اختیارات میں اگست 2025 تک توسیع بھی کر دی ہے۔
توسیع کا ارادہ
علاوہ ازیں، سلامتی کونسل نے پینل کے اختیارات کا جائزہ لینے اور اس کی مدت میں آئندہ برس 31 جولائی کے بعد مزید توسیع کے حوالے سے موزوں اقدامات کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔
کونسل کے تمام 15 رکن ممالک نے پینل سے درخواست کی ہے کہ وہ وسطی جمہوریہ افریقہ میں ہتھیاروں کی غیرقانونی منتقلی کے ہر غیرقانونی نیٹ ورک کے جائزے پر خصوصی توجہ مرکوز کریں جو وسطی جمہوریہ افریقہ میں مسلح گروہوں کو بدستور ہتھیار مہیا کر رہے ہیں اور دھماکہ خیز گولہ بارود سے متعلق خطرات پر بھی نظر رکھیں۔
پینل سے کہا گیا ہے کہ وہ 31 جنوری 2025 تک اپنی وسط مدتی 15 جون تک حتمی رپورٹ جمع کرائے اور ملک کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے۔