گوتیرش کا بنگلہ دیش میں پرامن اجتماع و اظہار کی آزادی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بنگلہ دیش میں احتجاجی مظاہرے دوبارہ شروع ہونے اور ان میں بڑے پیمانے پر طلبہ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ملک میں پرامن اجتماع و اظہار کی آزادی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر (نیویارک) میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کے حد سے زیادہ استعمال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی اطلاعات نہایت تشویش ناک ہیں۔
سیکرٹری جنرل کی جانب سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے اور اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ یقینی بنائے۔
انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ
ترجمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ اور اقوام متحدہ میں ملکی حکام کو موجودہ صورتحال پر ادارے کے خدشات کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ بنگلہ دیش انسانی حقوق کا احترام اور تحفظ یقینی بنائے گا جو اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ فوجی بھیجنے والا ملک بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے حکام کی جانب سے دیے گئے ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے کہا ہےکہ اقوام متحدہ کے نشان والی گاڑیاں ملک میں تعینات نہیں کی جائیں گی۔
ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے لیے فوجی دستے اور پولیس مہیا کرنے والے ممالک ادارے کے نشان اور سازوسامان کو صرف اسی صورت استعمال کرتے ہیں جب انہیں ادارے کے امن مشن کی حیثیت سے کسی جگہ قیام امن کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔
احتجاج کی نئی لہر
بنگلہ دیش میں طلبہ مظاہرین حکومت سے اپنے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ لے کر دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے ملک میں پہلے ہی کرفیو نافذ ہے۔
رواں ماہ ملازمتوں میں تحریک آزادی (1971) کے کارکنوں کی اولادوں کے لیے 20 فیصد مخصوص کوٹے کے خاتمے کے لیے ہونے والے مظاہروں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے جبکہ حکومت نے 2,000 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کر رکھا ہے۔
گزشتہ دنوں ملک کی سپریم کورٹ نے اس ملازمتی کوٹے کو 20 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کرنے کا فیصلہ دیا جبکہ حکومت نے اس پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد طلبہ نے احتجاج ختم کر دیا تھا۔